اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق فؤاد ابراہیم نے کہا: آل سعود کے بادشاہ نے حال ہی میں خلیج فارس تعاون کونسل کو یونین میں تبدیل کرنے کی تجویز پیش کرکے واضح کردیا کہ عرب ڈکٹیٹر عوامی بیداری سے بری طرح خائف ہیں اور وہ عوامی مطالبات سے بچنے کے لئے متحد ہونا چاہتے ہیں۔
انھوں نے کہا: عبداللہ کی دعوت کونسل کی تشکیل کے 30 سال بعد سامنے آرہی ہے جبکہ اس مدت میں ان ریاستوں کے درمیان کسی قسم کا اتحاد دیکھنے میں نہیں آیا ہے چنانچہ یہ دعوت قوموں کے اتحاد کے لئے نہیں ہے بلکہ حکمرانوں کو متحد کرنے کی کوشش ہے تا کہ وہ مل کر عوام کی بیداری کی تحریکوں اور ان کے مطالبات سے چھٹکارا پائیں۔
فؤاد ابراہیم نے کہا: اس طرح کا اتحاد تشکیل دینے کے لئے جمہوری ملکوں میں ریفرینڈم کرایا جاتا ہے لیکن چونکہ خلیج فارس کی ریاستوں پر مسلط خاندانوں کو حکمرانی کا قانونی جواز حاصل نہیں ہے اسی لئے وہ آپس میں متحد ہورہے ہیں تا کہ عربی بہار کا راستہ روک سکیں۔
.......
/169
تفصیل کے لئے روجوع کیجئے:
آل سعود کے خلاف عوامی تحریک؛ تازہ ترین واقعات؛ منطقۃالشرقیہ میں مظاہرے