3 نومبر 2011 - 20:30

وزير خارجہ علي اکبر صالحي ليبيا کا دورہ مکمل کرکے طرابلس سے تہران کے لئے روانہ ہوگئے ۔

 ابنا: وزير خارجہ علي اکبر صالحي جمعرات کو قاہرہ سے طرابلس گئے تھے- انہوں نے اپنے اس دورے ميں ليبيا کي قومي عبوري کونسل کے سربراہ مصطفي عبدالجليل سے ملاقات ميں ليبيا کي نئي حکومت اور عوام کو ايران کے تجربات منتقل کرنے پر تہران کي آمادگي کا اعلان کيا۔ وزير خارجہ نے اسي طرح ليبيا ميں امام موسي صدرکے لاپتہ ہوجانے جيسے اہم مسئلے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ايران کے عوام کے لئے يہ معاملہ بہت ہي اہميت کاحامل ہے اور علاقے کي ديگر اقوام بھي امام موسي صدر کے بارےميں جاننے کے لئےبے چين ہيں۔لبييا کي قومي عبوري کونسل کے سربراہ مصطفي عبدالجليل نے بھي اس ملاقات ميں ايران کي اعلي قيادت کي طرف سے مبارکباد کے پيغام کا شکريہ ادا کرتے ہوئے ليبيا کے عوام کے انقلاب کے دوران ايران کي مدد کا ذکر کرتے ہوئے کہاکہ اس دوران ايران کے عوام اور حکومت نے ليبيا کے عوام کي خاص طورپر جو طبي مدد کي ہے ہم اس کا شکريہ ادا کرتے ہيں۔ مصطفي عبدالجليل نے اسي طرح وزير خارجہ علي اکبر صالحي کے ساتھ ايک مشترکہ پريس کانفرنس ميں اس بات کا اعلان کيا کہ جلد ہي امام موسي صدر کے بارے ميں تفصيلات، ايران لبنان اور علاقے کے عوام کو فراہم کردي جائيں گي-واضح رہے کہ امام موسي صدر انيس اٹہتر ميں معدوم ڈکٹيٹر قذافي کي دعوت پر اپنے ساتھيوں کے ہمراہ ليبيا گئے تھے مگر وہاں انہيں اغوا کرليا گيا۔............

/169