24 اکتوبر 2011 - 20:30

لیبیا کی قومی عبوری کونسل نے آئندہ دو ہفتوں میں عبوری حکومت کی تشکیل کا اعلان کیا ہے۔

ابنا: قومی عبوری کونسل کے سربراہ مصطفی عبدالجلیل نے بن غازی شہر میں پریس کانفرنس سے خطاب کے دوران عبوری آئین کی تدوین کی بھی خبر دی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ لیبیا کا نیا آئين شریعت اسلامی کے مطابق تیار کیا جائے گا اور تمام سرکاری بل بھی مقدس اسلامی شریعت کے مطابق ہوں گے۔ عبوری کونسل نے عبوری مدت زیادہ سے زیادہ آٹھ ماہ بتائي ہے اور کہا ہے کہ اس مدت میں انتخابات کے انعقاد اور نئي حکومت کی تشکیل کے لئے ضروری اقدامات انجام دئے جائيں گے۔ یہ حقیقت ہے کہ لیبیا کے سیاسی میدان سے معمر قذافی کے خاتمے کے بعد لیبیا میں ایک نئے دور کا آغاز ہوگيا ہے جو لیبیا کے عوام کے لئے سخت اور دشوار راستے کا آغاز ہوسکتا ہے۔ عبوری کونسل نے ، جس کے ہاتھ میں اس وقت لیبیا کی باگ ڈور ہے ، ملک کو ہتھیاروں سے پاک کرنے کو اپنی اولیت قراردیا ہے۔حکومتی اور سیاسی اداروں کی تشکیل کے لئے راستہ ہموار کرنا بھی ایسے مسائل میں شامل ہے جو لیبیا میں اس وقت اہمیت کا حامل ہے۔ یہ اہمیت اس وجہ سے ہے کہ اس سلسلے میں تھوڑی سی بھی کوتاہی یا تساہلی لیبیا میں بیرونی عناصر کے گھس آنے کا سبب بن سکتی ہے خاص طور سے اس لئے کہ نیٹو کے رکن ممالک لیبیا کے اقتصادی میدانوں میں سرگرمی کے لئے کوشاں ہیں۔آٹھ ماہ کے دوران تعمیر نو کا مسئلہ بھی ان بنیادی مسائل میں شامل ہے جو عبوری دور میں لیبیا کا انتظام سنبھالنے والوں اور عبوری کونسل کے تمام اراکین کے درمیان تعاون اور ہم آہنگي کے متقاضی ہیں۔فرانس اور اٹلی جیسے ممالک اور ان کے ساتھ ساتھ امریکہ لیبیا میں ہونے والی تعمیر نو کے پروجیکٹ حاصل کرنے کے سلسلے میں ایک دوسرے پر سبقت کی کوشش میں ہیں۔ان حالات میں لیبیا کی عبوری حکومت کی کارکردگي اس حکومت کی بنیاد بن سکتی ہے جو آئندہ مہینوں میں وہاں تشکیل پائے گي۔بنابریں بہت سے سیاسی ماہرین لیبیا کے عبوری دور کو لیبیا کے مستقبل کے لئے تقدیر ساز اور اہم مرحلہ قرار دے ر ہے ہیں۔اس میں کوئي شک نہیں کہ بیرونی ممالک کے ساتھ لیبیا کی عبوری حکومت کے معاملات نئے لیبیا کی خارجہ پالیسی کی اساس اور بنیاد بنیں گے۔ اگرچہ بعض خبروں کے مطابق قذافی کی ہلاکت سے کچھ عرصہ قبل ہی عبوری کونسل نے عبوری حکوت کی تشکیل کے ضروری اقدام کرلئے تھے لیکن یہ بات عیاں ہونے کے بعد کہ نیٹو بغیر اہداف و مقاصد کے لیبیا کی جنگ میں شامل نہیں ہوا ہے اب کچھ اہداف و مقاصد کھل کر سامنے بھی آگئے ہیں۔اس وقت انقلاب لیبیا کو نہ صرف قذافی کے حامی قبائل کی طرف سے خطرہ لاحق ہے بلکہ نیٹو ممالک بھی لیبیا کا تیل اور گيس لوٹنے کے لئے کے لئے اپنے دانت تیز کر ر ہے ہیں۔ان دونوں مسائل کے پیش نظر عبوری کونسل پر، لیبیا کے عوام کا واحد قانونی نمائندہ ادارہ ہونے کی حیثیت سے ، موجودہ حالات میں بڑی سنگین ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ سیاسی رسہ کشی سے پاک حکومت کی تشکیل اور اسی کے ساتھ ساتھ لیبیا کے عظیم انقلاب کے اہداف اور قومی خواہشات کی بنیاد پر حقیقی جمہوریت کے قیام کی کوشش قذافی کی ڈکٹیٹرشپ سے آزادی حاصل کرنے والے عوام کے اہم ترین مطالبات ہیں اور وہ امید کرتے ہیں کہ عبوری کونسل موجودہ حساس وقت میں ان پر عمل اور لیبیا میں نئے نظام کو قائم کرے گی۔ 
.............

/169