26 ستمبر 2011 - 20:30

بحرين کے آمر فرمانروا حمد بن عيسي آل خليفہ نے سعودي عرب کے دورے ميں بحريني عوام کي تحريک کے بارے ميں رياض کے حکام سے تبادلہ خيال کيا- ان کا يہ دورہ ايسے عالم ميں انجام پايا ہے کہ بحرين کے عوام کي انقلابي تحريک نئے مرحلے ميں داخل ہوگئ ہے-

ابنا: بحرين کے فرمانروا شيخ حمد بن عيسي آل خليفہ کا رياض کا اچانک دورہ اس بات کي غمازي کرتا ہے کہ آل خليفہ حکومت نے بھي خطرے کو بھانپ ليا ہے اور وہ ايک بار پھر سعودي عرب سے مدد کي خواہاں ہے-

حاليہ مہينوں ميں سعودي عرب خليج فارس کے ان ساحلي ممالک ميں سے ايک رہا ہے جنہوں نے بحرين کي آل خليفہ حکومت کي بے تحاشا فوجي امداد کي ہے- سعودي عرب کے دسيوں ٹينکوں کي بحرين آمد اور اسي کے ساتھ بحريني مظاہرين کے قتل عام اور سرکوبي ميں سعودي عرب کے سيکڑوں فوجيوں کي شرکت، بحريني عوام کے خلاف سعودي عرب اور بحرين کے نامبارک اتحاد کا ثبوت ہے- بحرين کے بعض سياسي کارکنوں کا خيال ہے کہ اس ملک ميں سعودي عرب کي فوجي موجودگي، امريکا کے تعاون سے بحرين پر قبضے کي رياض کي پراني سازش کا حصہ ہے-

اس بات ميں کوئي شک نہيں ہے کہ سعودي عرب ، بحرين کے عوام کے قيام کے اثرات کے رياض تک پہنچ جانے کے امکان کے سبب تشويش ميں مبتلا ہے اور اسي ليے وہ ہر صورت ميں بحرين کي آل خليفہ حکومت کو باقي رکھنا چاہتا ہے- آل خليفہ حکومت بھي، بحرين کے حالات کے سلسلے ميں سعودي عرب اور ديگر عرب ملکوں کي تشويش کو سمجھتے ہوئے رياض حکام کے ساتھ صلاح مشورے کرکے سعودي عرب سے زيادہ سے زيادہ حمايت اور مدد حاصل کرنے کي کوشش کر رہي ہے تاکہ اپنے خيال ميں بحرين کے موجودہ سياسي نظام کو کچھ اور عرصے تک قائم رکھ سکے-

عوام کي سرکوبي کا موجودہ طريقہ وہ حل ہے جو امريکا اور سعودي عرب نے موجودہ وقت ميں آل خليفہ حکومت کے سامنے رکھا ہے- حاليہ دنوں ميں آل خليفہ حکومت نے بحرين کے عوام، خاص طور پر خواتين کے سلسلے ميں بہت زيادہ تشدد سے کام ليا ہے تاہم بحرين کي خواتين پر بحريني اور سعودي عرب کے فوجيوں کے حملوں ميں شدت اور گھروں نيز مساجد کو نذر آتش کيے جانے کے باوجود شيخ حمد بن عيسي آل خليفہ کا جلد بازي ميں کيا گيا سعودي عرب کا دورہ اس بات کي علامت ہے کہ بحرين حکومت بري طرح سے پھنس چکي ہے-

ان سب کے باوجود جو بات ناقابل انکار ہے وہ يہ ہے کہ بحرين اور سعودي عرب کے فوجي، بحريني مظاہرين کے خلاف تشدد اور طاقت کا جتنا زيادہ استعمال کريں گے اتنا ہي بحرين کے سياسي نظام ميں تبديلي اور امتيازي سلوک کے خاتمے کے ليے اس ملک کے عوام کا عزم مضبوط ہوتا جائے گا-...........

/169