ابنا: آج شہر میں فائرنگ کے مختلف واقعات میں مزید 7افراد ہلاک ہوگئے۔ رمضان کا مقدس مہینہ شروع ہونے کے باوجود کراچی میں دہشت گردی نہیں رک سکی ، سرجانی ٹاوٴن میں ناردرن بائی پاس کے قریب سے دو افراد کی لاشیں ملیں جنہیں فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا تھا،، ناظم آباد میں سرسید کالج کے قریب کار کی ڈگی سے نوجوان کی بوری میں بند لاش ملی۔ گذشتہ روز اغوا کیے گئے دو نوجوانوں کی بوریوں میں بند لاشیں اورنگی ٹاوٴن کے علاقے مومن آباد سے ملیں،، گلشن اقبال میں اردو یونیورسٹی کے قریب کار پر فائرنگ سے دوافراد ہلاک اور تین زخمی ہوگئے۔ کراچی میں ہر روز دہشت گردی کا نیا باب رقم کیا جارہا ہے۔ موجودہ حکومت کے دور کے ساڑھے تین سال سے زائد کے عرصے میں کراچی میں اب تک قتل کئے گئے لگ بھگ 4300 افراد کے قاتلوں کو گرفتار کون کرے گا۔ ناحق بہنے والے اس خون کے حساب کتاب کی توشاید اب کسی کو فکر بھی نہیں۔ ہرشہری کسی طرح اپنی جان بچ جانے کی فکر میں بے بس نظر آتا ہے۔ پولیس اور رینجرز سمیت متعلقہ ادارے تو ناکام ہیں ہی المیہ یہ بھی ہے کہ سرکاری یا حکومتی عہدیداروں کی جانب سے ڈرامائی بیانات کے سوا کوئی موثر حکمت عملی سامنے نہیں آرہی۔ ............
/169