16 جون 2011 - 19:30

کراچی میں گذشتہ روز پرتشدد واقعات میں مزید 9 افراد ہلاک ہوگئے۔واقعات پر قابو پانے کے لیے پولیس کا گلشن ٹاون کے مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ کیا گیا۔

ابنا: کراچی کے مختلف علاقوں میں کئی روز کی کشیدگی کے بعد صورتحال میں کچھ بہتری ہوئی ہے اور کراچی کے سب سے ذیادہ کشیدہ صورتحال والے علاقوں اورنگی ٹاوٴن ،قصبہ کالونی،علی گڑھ،میٹرول اور بنارس میں علاقہ مکینوں کے معمولات زندگی بھی بحال ہوئے ہیں،تاہم کراچی کے جن علاقوں میں فائرنگ سے ہلاکتوں کے واقعات پیش ہوئے ہیں ان میں لیاری ٹاوٴن،گھاس منڈی،صدر،ملیر اور اورنگی ٹاوٴن کے علاقے شامل ہیں۔فائرنگ کے واقعات پر قابو پانے کے لیے گلشن اقبال ٹاوٴن پولیس کا ٹاوٴن کے مختلف علاقوں میں فلیگ مارچ بھی کیا گیا۔پولیس کے مطابق فلیگ مارچ کا مقصد گلشن ٹاوٴن میں شہریوں کو تحفظ کا اظہار کرانا ہے۔
کراچی،رینجرز کی مبینہ فائرنگ سے نوجوان کی ہلاکت کا مقدمہ درج نہ ہوسکا 
کراچی…افضل ندیم ڈوگر…کراچی کے علاقے کلفٹن میں تو ویڈیو فلم نے رینجرز کے ہاتھوں نہتے نوجوان کی مقابلے میں ہلاکت کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ لیکن منگھو پیرمیں رینجرز کی فائرنگ کے باعث بچے کی ہلاکت کا کوئی پوچھنے والا نہیں، عدالتی حکم کے باوجود شہری مقدمہ درج کرانے کیلئے چکر کاٹ رہا ہے۔ اور پولیس سرکاری اہلکاروں کے ظلم پر مسلسل پردہ ڈال رہی ہے۔ کراچی کے علاقے منگھوپیر میں واقع سلطان آباد کے علاقے میں ایک گھر میں گذشتہ ماہ تلاشی کے بہانے رینجرز اہلکار آدھی رات کو دیواریں کود کر گھسے تھے۔ آہٹ پاکر گھر والوں نے انہیں ڈاکو سمجھ شور مچا دیا اور ڈاکووٴں کو بھگانے کے خیال سے گھر کے مالک گل خان نے لائسنس یافتہ اسلحے سے ہوائی فائرنگ کردی۔ جس کے جواب میں بوکھلائے ہوئے رینجرز اہلکاروں نے جدید اسلحہ سے شدید فائرنگ کی۔ گولیاں لگنے سے گل خان کا 13 سالہ اسلام بہادر اور اس کا 27 سالہ بھائی خان بہادر زخمی ہوگئے تھے۔ انسانی حقوق یا مہذب معاشرے کے شعور سے ناواقف رینجرز اہلکاروں نے زخمیوں کو فوری طور پر اسپتال منتقل کرنے کی بجائے ایک گھنٹے تک اسی جگہ پر حراست میں لئے رکھا۔ تفصیلی تفتیش کے بعد انہیں اسپتال بھجوایا۔رینجرز حکام نے اپنی غلطی تسلیم کرنے کے بجائے گھر والوں کو ہی ملزم ٹھہرا دیا۔ اس واقعے پر اہلکاروں کے خلاف کوئی معمول کی محکمانہ انکوائری تک نہیں کی گئی۔ 13 سالہ اسلام بہادر کے جاں بحق ہوجانے پربھی ادارے کے افسران کو شرمندگی نہیں ہوئی۔ اس کے برعکس ظلم یہ کہ رینجرز نے پولیس سے ملی بھگت کرکے پولیس مقابلے کا مقدمہ درج کرا کے 27 سالہ زخمی خان بہادر کو ہی گرفتار کرلیا۔ حالانکہ اس روز تمام میڈیا نے اس واقعہ کی کوریج کی تھی۔ عدالتی چارہ جوئی پر زخمی کی رہائی عمل میں آئی۔ عدالت نے ملوث اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرنے کا حکم دیا۔گل خان آفریدی کے پاس اپنے بچے کی رینجرز اہلکاروں کے ہاتھوں ہلاکت کی کوئی ویڈیو نہیں لیکن دیگر تمام شواہد ہونے کے باوجود سرکاری اداروں سے قانونی جنگ لڑتے ہوئے در در کی ٹوکریں کھا رہا ہے۔رینجرز کی فائرنگ سے جاں بحق اور زخمی ہونے والوں کے اہل خانہ اپنے پیاروں پر ظلم توڑنے والے رینجرز اہلکاروں کے خلاف مقدمہ درج کرانے میں ابھی تک ناکام ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/169

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز 

   بحرین میں مظالم روکنے کےلئےCLICK صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت