17 مئی 2011 - 19:30

بحرین میں شیعیان اہل بیت (ع) کا قتل عام کاظم رستمی کی شاعری

کاظم رستمی نوجوان شاعد ہیں جنہوں نے بحرینی عوام کے قتل عام پر شعر کی زبان میں اظہار خیال کیا ہے۔ ناقص سا اردو ترجمہ پیش خدمت ہے:

بسم اللہ الرحمن الرحیم

صدیوں سے

اویس (قرنی) کی آہ کی نسیم

یمن سے

پکار رہی ہے

یا محمدا!

صدیوں سے

میدان لؤلؤہ تک

سوگوار عورتوں کی آنکھوں سے دریا ٹپک رہے ہیں

دریا دریا دریا

بطحائے خونین

صدیوں سے

اس قوم کی تلخ سرنوشت تک

ایک سقیقہ کو دہرایا جارہا ہے

جو صفین کے ظہر سے

عاشورا کے عصر تک

رسول اللہ کے ٹکڑے ٹکڑے جسم پر چیخ چیخ کر رو رہا ہے

یا محمدا!

لبنان اور فلسطین کے زیتونوں کے باغ

عراق کے نخلستان

لڑکیاں اپنے محبوب کھو گئی ہیں

مرج البحرین کے ساحل پر بیٹھی

یمن کے سرخ عقیق رورہی ہیں

ويلي ويلي ويلي (وائے ہو مجھ پر وائے ہو مجھ پر وائے ہو مجھ پر)

یتیموں سے دور پڑگئے ہیں آپ

یا فارِسَ الحجاز (یا امیرالمؤمنین)

یہاں

سرزمین عرب ہے

ماڈرن جاہلیت کے دور میں

زندہ درگور کررہے ہیں

ہماری آرزوؤں کی لڑکیوں کو

سمیح القاسم کی نوائیں (فلسطینی شاعر)

محمود درویش کی فریادیں (فلسطینی شاعر)

نزار قبانی کی یار یار کی نوائیں (قبانی لبنان میں صہیونی بمباری میں مقتول عراقی شاعر)

میری شاعری کے الفاظ میں لپٹی

"بلقیس کی آہ

(اے بلقیس) تجھے انھوں نے قتل کردیا

یہ کونسی امتِ عرب ہے

کہ وہ کینریوں کی صدا بجھا دیتے ہیں!"

(سعودی شاعرہ، ادیبہ اور مؤلفہ "بلقیس الملحم" حقیقت پسندی، انتہاپسندی کی مخالفت، شیعہ مذہب کی نسبت نرم گوشہ رکھنے اور سید حسن نصراللہ کی جوانمردی سے متأثر ہونے کے "جرم" میں اپنے وہابی بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہوگئیں).

یہ کیسے حکام ہیں جو ہمیں

لیبیا کو ٹکڑے ٹکڑے کرتے

یمن کو خاک و خون میں نہلاتے

بحرین کو بڑی ابو غریب جیل (بنادیتے ہیں)

آہ! نہتے بحرین

اپنے شہداء کو دفن کرکے اٹھو

میں عرب کو رسوا کردوں گا ...

میں

فلسطین کے "توفیق زیاد" کے خطابات کا مظہر

فریاد ہوں میں عاشق البیاتی کی شاعری کی (مرحوم عراقی شاعر عبدالوہاب البیاتی) 

(جو کہا کرتے تھے):

«اگر اصحاب كہف

معجزے کی امید لے کر سوگئے

میں معجزے کے انتظار میں

آگے بڑھنے اور آگ کے شعلے بھڑکانے کا سلسلہ جاری رکھوں گا».

ہائے

شیطان کے تاریخی نوکرو!

(ہم) شکریہ ادا کرتے ہیں ہر گولی کا

جو نوجوانوں کے کندھے کو سوراخ کردیتی ہے

شکریہ ادا کرتے ہیں

اپنے بچوں کے خون کی بابت

جو تمہارے لئے شراب میں بدل گیا

جاہلی شمشیروں کے رقص میں

اے عرب کے رسوا حکمرانو!

تمہیں رسوا کردوں گا

"ابو سلمی" کی آواز میں (زہير ابن ابي سلمي مُزني دوران جاہلیت کے عرب شعراء میں سے تھا)۔

کاش تم عالم وجود میں نہ ہوتے

اے تیل اور چربی کے سورو!

اے رسول خدا کے مزار پر بیٹھے ہیناؤ! (Hyena)

جناب شیخ صخرہ آل بت (صخر بن حرب ابوسفیان کا اصلی نام)

اے بے چارے لات (لات عرب کے مشہور بتوں میں سے تھا)

جس نے اپنے کو مَلِک (بادشاہ) کہا

اچھی طرح سنو

اپنی حرمسراؤں سے باہر جھانک کر

قدموں کی منظم آواز (آہٹ) ہے

بارش کے قطروں کی مانند

ایک سپاہ آرہی ہے

سپاہ باران ہی ہے

وہ بارش جو شکست ناپذیر ہے

اسلام کے ایران سے

علی کے عراق سے

حسین کے لبنان سے