ابنا: بحرین میں عوام کا ”ہفتہ استقامت “اب تقریبا ختم ہونے جارہا ہے اس ہفتے میں بھی عوام نے مسلسل احتجاج کیا سڑکوں پر نکل آئے قابض افواج اور ڈکٹیٹر شب کے خلاف نعرے لگائے جبکہ قابض افواج اور آل خلیفہ کے متعصب کرایے کے غنڈوں نے مختلف حملوں میں دسیوں افراد کو زخمی کردیا اور چند ایک شہادتیں بھی ہوئیں جبکہ ملک کی سب سے بڑی حزب اختلاف جماعت کے سیکرٹری جنرل علامہ علی سلمان کے مطابق تیرہ خواتین سمیت تین سو سے زائد افراد گرفتار ہوچکے ہیں اور متعدد افراد کو کرایے کے غنڈوں نے اغواءکرلیا ہے ۔عوام کے مسلسل اور نہ ختم ہونے والے احتجاج نے ایک بات ثابت کردیا کہ بحرینی عوام گولی ،زخم ،خون ٹارچر اور شہادت جیسے مفاہیم سے نہ فقط آشنا ہوئے ہیں بلکہ اب ان سے انکا رشتہ مضبوط ہوچکا ہے بحرین کی عوام خوف اور ڈر سے آگے نکل چکی ہے۔
جذبہ قربانی ہی وہ جذبہ ہے جو ہر قسم کے طوفانوں کا سامنا کر سکتا ہے ،بحرینی عوام اس وقت خود کو ان دو راستوں کے درمیان پاتی ہے زلت اور شہادت اور انہوں نے شہادت کا راستہ اختیار کیا ہے اور یہی چیز آل خلیفہ سے عیاش حکمرانوں کو پریشان کیے ہوئے ہے شاید ان کے لئے اس طرح کی عوامی استقامت بالکل غیر متوقع تھی ۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110
