13 مارچ 2011 - 20:30

یورپی ذرا‏ئع ابلاغ کے تمام تر منفی پروپیگنڈوں کے برخلاف اسلامی جمہوریہ ایران نے رواں شمسی سال میں عظیم ترقی و پیش رفت کی ہے اور عالمی اقتصادی بحران کے باوجود ایران کا اقتصاد پہلے سے زیادہ مستحکم ہوا ہے ۔

ابنا: صدر مملکت ڈاکٹر محمود احمدی نژاد نے ملک بھر کے گورنروں کے وفد سے ملاقات میں رواں شمسی سال میں انجام دیۓ جانے والے حکومت کے بعض اقدامات کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا ہے کہ گزشتہ برس ایران کے خلاف شدید ترین پابندیاں لگائي گئیں لیکن اس کے باوجود سبسڈی کے نظام میں بہتری جیسے وسیع تر اقدامات پر عمل درآمد کیا گيا ۔ روزگار کے سولہ لاکھ مواقع پیدا ہوۓ اور لوگوں کا معیار زندگی بہتر ہوا۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے ایران کے خلاف قرارداد نمبر انیس سو انتیس منظور کی ۔ امریکہ کی وزارت خزانہ اور یورپی ممالک نے ایران کے خلاف غیر قانونی اقدامات انجام دیۓ ۔ امریکہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرسکتا ہے لیکن رواں شمسی سال کے دوران ایران کی اقتصادی سرگرمیوں سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ امریکہ اور یورپی ممالک کی تمام تر کوششیں ناکام ہوچکی ہیں۔ رواں شمسی سال میں ایران کی نان آئل ایکسپورٹ میں قابل ملاحظہ اضافے اور اسٹاک مارکیٹ میں ستر فیصد تک انڈکس اوپر جانے سے ایران کی اقتصادی ترقی اور خوشحالی کی نشاندہی ہوتی ہے۔ ایران کے وزیر خزانہ سید شمس الدین حسینی کے مطابق رواں سال میں برآمدات سے حاصل ہونے والی آمدنی گزشتہ سال کی آمدنی سے اکیس فیصد زیادہ ہے ۔جو کہ ایران کی ایک اقتصادی کامیابی شمار ہوتی ہے ۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے پیٹرولیم انڈسٹری کے ماہرین کی کوششوں ، سبسڈی کے نظام میں بہتری لانے اور توانائي کے استعمال کی مینیجمنٹ کے ذریعے اغیار پر سے انحصار ختم کرنے کا کارنامہ بھی انجام دیا ۔ اب ایران اپنی ضروریات سے زیادہ پٹرولیم مصنوعات تیار اور ان کو برآمد کرنے کی صلاحیت حاصل کرچکا ہے۔ اقتصادی جریدے میڈ نے حال ہی میں ایران کے اقتصاد کا جائزہ لیتے ہوۓ ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ گزشتہ عیسوی سال کے دوران ایران نے جو منصوبے بناۓ اور جن منصوبوں پر کام ہورہا ہے ان کے حجم کے اعتبار سے ایران خطے میں چوتھے نمبر پر ہے۔ ایران نے جو منصوبے تیار کۓ اور جن منصوبوں پر وہ عمل درآمد کررہا ہے دو ارب ڈالر کے اضافے کے ساتھ ان کی مالیت تین سو پندرہ اعشارہ آٹھ ارب ڈالر تک جا پہنچی ہے ۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ ایران نے گزشتہ ایک سال کے دوران صفر اعشاریہ سات فیصد ترقی کی ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ امریکہ گزشتہ تین عشروں سے مختلف طرح کی پابندیاں لگا کر بزعم خویش ایران کو الگ تھلگ کرنے کے لۓ کوشاں ہے ۔ لیکن سیاسی اور اقتصادی ماہرین اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ ایران نے اب جو اقتصادی طاقت حاصل کر لی ہے اور اس کو جس قدر علاقائی اور عالمی منڈیوں میں اب رسائي حاصل ہے اس کے ساتھ اس کی بتیس برس پہلے کی حالت اور طاقت کا موازنہ نہیں کیا جاسکتا ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔

/110