5 مارچ 2011 - 20:30

میخائل لوکانین: انقلاب کی لہریں بہت جلد پوری سرزمین نجد و حجاز پر چھا جائیں گی.

اہل البیت (ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کی رپورٹ کے مطابق  روسی تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ سعودی عرب کی سرزمین میں انقلاب کا آغاز ہوچکا ہے اور مشرق وسطی کی حالیہ صورت حال اور اسلامی بیداری کی لہر اس پوری سرزمین پر چھانے والی ہے. میخائل لوکانین نے ترود نامی روزنامے میں لکھا: مشرق وسطی کا خطہ نئے مرحلے میں داخل ہورہا ہے اور اکثر ماہرین کی رائے ہے کہ دنیائے عرب حالیہ لرزشوں کے نتیجے میں عالمی اسلامی تحریک میں شامل ہوجائے گی۔ ماسکو میں مشرق وسطی انسٹٹیوت کے سربراہ یِوگینی ساتانوفسکی کا کہنا ہے:ایک ایسے انقلاب کی لہریں پوری سرزمین نجد و حجاز پر چھا جائیں گی جس کے نتیجے میں یہ ملک دو (مغربی اور مشرقی) حصوں میں تقسیم ہوجائے گا۔ساتانوفسکی نے کہا ہے کہ تقسیم شدہ سعودی عرب کا مغربی حصہ القاعدہ کے ہاتھ میں چلاجائے گا اور شیعہ اکثریتی مشرقی علاقہ ایران کے زیر نفوذ ہوکر رہ جائے گا۔ ان کا خیال ہے کہ اگر ایسا ہوا تو یہ امریکہ کے لئے نہایت برا ہوگا۔ساتانوفسکی کی رائے سے معلوم ہوتا ہے کہ گویا روسی تجزیہ نگار بھی اس عالمی ایجنڈے کا حصہ بن گئے ہیں جو علاقے کے انقلابات کو منحرف یا پھر خاموش کرنے کی غرض سے ایران فوبیا کو ترویج دینے اور مسلم اقوام کو ایران سے خوفزدہ کرکے انقلاب سے دور کرنے کے لئے مرتب کیا گیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

/110