مشرف اسمبلی تحلیل کرکے ٹیکنوکریٹس کی حکومت لانا چاہتے تھے، وکی لیکس وکی لیکس کی ایک اور خفیہ دستاویز کے مطابق فروری دو ہزار آٹھ کے انتخابات کے صرف چھ ماہ بعد صدر پرویز مشرف اس امکان پر غور کررہے تھے کہ قومی اسمبلی تحلیل کرکے ٹیکنو کریٹس کی حکومت لائی جائے ۔ یہ بات اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے سے پچیس جولائی دو ہزار آٹھ کو واشنگٹن بھیجے گئے مراسلے میں کہی گئی۔ مراسلے کے مطابق نواز شریف اور آصف زرداری کے کمزور ہوتے تعلقات دیکھ کر صدر مشرف کو یقین تھا کہ جب ان دونوں کی راہیں الگ ہوں گی تو آصف زرداری کو پارلیمنٹ میں اپنی اکثریت برقرار رکھنے کیلئے نئے اتحادیوں کی ضرورت ہوگی۔ ایسے میں مشرف کی جماعت مسلم لیگ ق ان اتحادیوں میں سے ایک ہوسکتی ہے ۔ تاہم گیلانی اور زرداری کو اس بات کا خدشہ تھا کہ مشرف کے ساتھ کام کرنے کا انہیں سیاسی نقصان ہوسکتا ہے۔ گیلانی نے واشنگٹن کے مجوزہ دورے میں یہ معاملہ اٹھانے کا سوچا۔ دوسری جانب پرویز مشرف نے امریکی حکومت سے کہا کہ وہ یوسف رضا گیلانی کو اس بات کا یقین دلائے کہ صدر مشرف کے لئے امریکا کی حمایت برقرار رہے گی۔ پرویزمشرف قومی اسمبلی تحلیل کرکے ٹیکنو کریٹس کی حکومت لانے پر بھی غور کررہے تھے اور اس سلسلے میں مشاورت جاری تھی ۔ تاہم امریکی سفیر نے اپنی حکومت کو لکھا کہ یہ منظر نامہ عدم استحکام کا سبب بنے گا اور مشرف کی اقتدار سے علیحدگی کے مطالبات زور پکڑ جائیں گے۔ دہشت گردی کیخلاف جنگ کے حوالے سے مراسلے میں انکشاف کیا گیا کہ پاکستانی حکومت نے حقانی نیٹ ورک کیخلاف کارروائی نہیں کی اور نہ ہی کمانڈر نذیر یا گلبدین حکمت یار کو گرفتار کیا گیا۔ حکومت کو خدشہ تھا کہ فوجی کاروائی سے قبائلی علاقوں میں ایسی جنگ چھڑ جائے گی جسے کنٹرول کرنا مشکل ہوگا ۔ نوازشریف نے امریکی سفیر کو پی پی کے ساتھ کام کرنے کا یقین دلایاتھا‘ واضح ہوگیا ہے کہ امریکا چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کی بحالی نہیں چاہتا تھا۔ یہ بات نواز شریف اور اس وقت کی امریکی سفیر کے درمیان ملاقات میں زیر بحث آئی۔ نواز شریف نے یہ بھی کہا تھا کہ وہ انتخابات کے بعد مخلوط حکومت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کر کام کرنے کو تیار ہیں۔ نواز شریف اور امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کی ملاقات 31 جنوری2008 کو اسلام آباد میں ہوئی جس میں چوہدری نثار بھی موجود تھے۔ نواز شریف کا کہنا تھا کہ18 فروری کو ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ ن نے حکومت بنائی تو اس کا مقصد معزول ججوں کی بحالی اور امن و امان کو بحال کرنا ہوگا۔ امریکی سفیر نے کہا کہ کچھ معزول ججوں کو بحال کیا جاسکتا ہے لیکن چیف جسٹس کو نہیں۔ اس پر نواز شریف نے اصرار کیا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بغیر دیگر ججوں کو بحال کرنا بے معنی ہوگا۔ نوازشریف کا کہنا تھا کہ انتخابات کے بعد مخلوط حکومت میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مل کرکام کرنے کو تیار ہیں۔ دونوں جماعتوں کے اتحاد کو عملی شکل دی جاسکے تو یہ ایک بہترین چیز ہوگی۔ دونوں جماعتیں سندھ یا پنجاب کی حکومتوں میں بھی مل کر کام کرسکتی ہیں۔ نواز شریف نے کہا کہ صدر مشرف سے ان کی کوئی دشمنی نہیں ہے لیکن اس کے ساتھ انہوں نے1999 کی فوجی بغاوت کے بعد اپنے ساتھ کی جانے والی بدسلوکیوں کا تفصیل سے ذکر کیا۔ ملاقات کے دوران نواز شریف اور چوہدری نثار نے کئی مرتبہ یہ بات کہی کہ مسلم لیگ ن امریکا نواز ہے۔ نواز شریف نے امریکی سفیر کو یاد دلایا کہ انہوں نے اپنے چیف آف آرمی اسٹاف کی بات رد کرتے ہوئے خلیج کی پہلی جنگ میں امریکی اتحادی فوج کی حمایت میں پاکستانی فورسز کو سعودی عرب میں تعینات کرنے کا فیصلہ کیا۔ اس فیصلے کے خلاف پیپلز پارٹی کے رہنما اور کارکنوں نے مظاہرے کئے۔ نواز شریف نے کہا انہیں دکھ ہے کہ امریکا نے اس بات کو یاد نہیں رکھا۔نواز شریف کا کہنا تھا کہ امریکا نے حال ہی میں جو بہترین کام کیا ہے وہ چیف آف آرمی اسٹاف کے طور پر جنرل کیانی کی نامزدگی کا انتظام کرنا ہے۔ مراسلے کے اختتام پر امریکی سفیر نے اپنے تبصرے میں لکھا کہ ایک سابق وزیر اعظم کا اس بات پر یقین کہ امریکا پاکستانی آرمی چیف کی تعیناتی کو کنٹرول کر سکتا ہے پاکستان میں امریکی اثر و رسوخ کی افسانوی باتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ وکی لیکس نے پاکستان میں ان کیمرہ سیشن کی پول بھی کھول دی وکی لیکس پہلے تو سفیروں کے مراسلے ظاہر کر رہا تھا اب اس نے پاکستان میں ان کیمرہ سیشن کی پول بھی کھول دی ہے اور وہ بھی شدت پسندوں اور ان کے کشمیر سے تعلق کے بارے میں ۔ پشاورکے قونصل خانے سے جاری مراسلے میں ایک شخص کا نام ظاہر کیے بغیر یہ بتایا گیا ہے کہ پارلیمنٹ کے ان کیمرہ سیشن میں آئی ایس آئی نے اراکین اور حکومت پاکستان کے سینئر افسروں کو بعض طالبان عناصرکی خوبیوں اور ان کے مقابلے میں حقیقی شدت پسندوں سے متعلق آگاہ کیا۔ اس بارے میں دلیل دی گئی کہ دہشت گرد گروہوں میں سے بعض افراد مستقبل میں کشمیر یا کہیں اور آپریشن میں فائدہ مند ہوسکتے ہیں۔ ذریعے نے کہا کہ وہاں موجود تمام افراد اس بات پرمتفق نہیں تھے۔ نوازشریف اسلامی بنیاد پرستی کے خالق ہیں،دادفرسپنتا/وکی لیکس وکی لیکس نے انکشاف کیا ہے کہ افغان حکومت میاں نواز شریف کو اسلامی بنیاد پرستی کا خالق سمجھتی ہے جبکہ رچرڈ باؤچر کو خدشات تھے کہ نواز شریف پاکستان میں اسلام کی حمایتی اور مشرف اور امریکا مخالف تحریک چلا سکتے ہیں۔ وکی لیکس نے 8 ستمبر 2007 کوکابل میں رچرڈ باؤچر کی افغان صدر حامد کرزئی اور افغان وزیر خارجہ سپنتا کی گفتگو کا انکشاف کیا ہے جس میں پاک افغان جرگے سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاک افغان جرگے میں مشرف کی شرکت کی تاخیر کی بڑی وجہ یہ تھی کہ انہیں ڈر تھا کہیں سپریم کورٹ میاں نواز شریف کو وطن واپس آنے کی اجازت نا دے دے۔افغان وزیر خارجہ سپنتا نے کہا کہ وہ جانتے ہیں میاں نواز شریف ان کے لیے بری خبر ہیں؛ نواز شریف خطے میں اسلامی بنیاد پرستی کے خالق ہیں۔ رچرڈ باؤچر نے اس بات سے اتفاق کرتے ہوئے کہا کہ میاں نواز شریف پاکستان واپس آ گئے تو وہ اسلام کی حمایتی، مشرف اور امریکا مخالف تحریک کا آغاز کر سکتے ہیں۔ ملاقات کے دوران افغان صدر حامد کرزئی نے کہا کہ پاکستان میں قبائلیوں کو باقاعدہ نمائندگی کا حق دیا جانا چاہیئے۔ رچرڈ باؤچر نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ آفتاب شیرپاؤ کے مطابق پاکستان کے قبائلی علاقوں میں سیاسی جماعتوں کا نظام فی الحال نہیں چل سکتا۔ پاکستانی سیاست میں امریکی کردار بے نقاب سابق امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن نے جنوری 2008 میں مسلم لیگ ن کے سربراہ نواز شریف سے ملاقات کے دوران چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی بحالی کی شدید مخالفت کی تھی۔ نواز شریف نے ملاقات میں امریکی سفیر کو بتایا تھا کہ چیف جسٹس کی بحالی کے بغیر دیگر جج بحال کرنا بے معنی ہوگا۔ وکی لیکس کے مطابق اس وقت کی امریکی سفیر سے نواز شریف نے 13جنوری 2008 کو ملاقات میں مختلف ایشوز پر تبادلہ خیال کے دوران یہ کہا تھا کہ آزاد عدلیہ کو بحال کئے بغیر قانون کی حکمرانی کو برقرار رکھا جاسکتا ہے نہ ہی امن و امان کی صورتحال بہتر ہوسکتی ہے۔ امریکی سفیر این ڈبلیو پیٹرسن کا کہنا تھا کہ کچھ معزول ججز بحال ہوسکتے ہیں لیکن چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال نہیں ہوسکتے۔ اس پر نواز شریف نے امریکی سفیر کو قطعی طور پر بتایا کہ چیف جسٹس کو بحال کئے بغیر باقی ججوں کی بحالی بے معنی ہوگی۔ وکی لیکس کے مطابق نواز شریف کے واضح اور قطعی بیان پر این ڈبلیو پیٹرسن امریکی موقف پر اڑی رہیں اور نواز شریف سے اتفاق نہیں کیا۔ امریکی سفیر نے ن لیگ کے سربراہ سے کہا کہ کچھ ہائی کورٹ ججز بحال ہو جائیں گے تاہم چیف جسٹس افتخار چوہدری بحال نہیں ہوں گے۔ ...............وہ اس اسلامی ملک کے سفید و سیاہ کے مالک اور عدلیہ و انتظامیہ و مقننہ کے تعین میں ان کا فیصلہ آخری فیصلہ ہے؛ اب بھی کیا اس میں کوئی شک ہے؟ ایک بڑے اسلامی ملک کے حکام امریکیوں کو اپنی وفاداری جتاتے ہیں؛ شرم و حیا کی قید سے آزاد ہوکر حریت اور عزت نفس کی شرط کو پس پشت ڈال کر مسلسل کہتے ہیں: "ہم پرو امریکا ہیں؛ ہم ہی وہی بکاؤ مال ہیں جس کی آپ کو تلاش ہوتی ہے!؟"؛ اپنا اقتدار پکا کروانے کے لئے واشنگٹن کے دورے کئے جاتے ہیں اور امریکی سفیر وائس رائے امریکا کا کردار ادا کرتا / کرتی ہے؛ ہموطنوں کو اب بھی یقین نہیں آیا تو علاج کیا ہے؟...............رچرڈ ہالبروک: ہم افغانستان میں بھارتی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کی بات نہیں سنتےوکی لیکس کے توسط سے منکشف ہونیوالی امریکی خفیہ دستاویزات کے مطابق امریکا کے خصوصی نمائندے رچرڈ ہالبروک نے اپنے دورہ بھارت کے دوران بھارتی سیکرٹری خارجہ نروپما راؤ کو یقین دلایا کہ ا ن کا ملک افغانستان میں بھارتی منصوبوں کے حوالے سے پاکستان کی بات نہیں سنتا۔دوران ملاقات انہوں نے پاکستان کی تازہ ترین سیاسی صورتحال کے حوالے سے بتایا کہ پاکستان میں آرمی چیف، چیف جسٹس، وزیر اعظم اور نواز شریف سمیت طاقت کے مختلف مراکز غیر یقینی کا شکار ہیں اور صدرزرداری کی حکومت کمزور ہورہی ہے۔پاک فوج افغانستان میں اپنے اسٹریٹجک مفادات کے تحفظ کے لئے طالبان بالخصوص ملا عمر کی سربراہی میں قائم طالبان کی کوئٹہ شوریٰ کو انشورنس پالیسی تصور کرتی ہے۔مراسلے میں بھارت چین بڑھتے ہوئے تعلقات کا بھی انکشاف کیا گیا ہے۔ بھارتی سفارتکار نے انکشاف کیا کہ چینی وزیراعظم وین جیا باؤ نے کوپن ہیگن میں بھارتی وزیراعظم من موہن سنگھ کو بتایا کہ ان کا جنوبی ایشیا میں ثالثی کردار ادا کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نئی دہلی میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے امریکی محکمہ خارجہ کو ارسال کردہ مراسلے میں بتایا گیا کہ 18جنوری 2010ء کو نئی دہلی میں ہونے والی ملاقات میں امریکی ایلچی نے نروپما راؤ کو بتایا کہ امریکا پاکستان پر ان گروپوں کے خلاف کارروائی کے لئے بہت زیادہ دباؤ ڈال رہا ہے۔ طالبان کے ساتھ تعلق ختم کرنے کیلئے پاکستان پر دباؤ ڈالنے کی نروپما راؤ کی درخواست پر ہالبروک نے بھارتی سیکرٹری خارجہ کو کہا ”بہت سے لوگ پاکستان پر امریکی اثرو رسوخ کا غلط اندازہ لگاتے ہیں۔“ نروپما راؤ نے پاکستان پر الزام عائد کیا کہ وہ بھارتی کشمیر میں بغاوت کو ہوا دے رہا ہے اور افغانستان کے حوالے سے استنبول کانفرنس میں بھارت کی شمولیت بھی پاکستان نے ہی رکوائی۔ طالبان کے سوال پر ہالبروک نے کہا کہ طالبان کے ساتھ رابطہ اور مفاہمت کا مطلب یہ ہرگز نہیں ہے کہ ان کے ساتھ شراکت اقتدار کی جائے گی۔نروپما راؤ نے بتایا کہ اگر افغانستان کو اس کی فطری مارکیٹ بھارت کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس میں توانائی، زراعت اور تجارت کا مرکز بننے کی صلاحیت ہے لیکن بد قسمتی کی بات یہ ہے ک
3 دسمبر 2010 - 20:30
News ID: 215627
امریکا سے دوستی یا امریکا کی وفاداری کا انکشاف؛ گذرا ہوا وقت لوٹ کر تو نہیں آتا لیکن ۔۔۔