25 ستمبر 2010 - 20:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر جناب احمدی نژاد نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس میں کہا کہ 11 ستمبر کے واقعات کی تحقیقات کے لئے ایک کمیٹی بنائی جانی چاہئے ۔ اور ویٹو پاور کو ختم کیا جانا چاہئے.

صدر احمدی نژاد نے اپنے اس خطاب میں ایک بار پھر مظلوم فلسطینی عوام کی حمایت کا اعلان کیا ۔ صدر احمدی نژاد نے 11 ستمبرکے مشکوک واقعے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کے فورا بعد بھرپور طریقے سے تشہیراتی مہم چلائي گئي اور پوری دنیا میں پروپیگنڈہ کیا گیا کہ دنیا  کو دہشت گردی کا سنگین خطرہ لاحق ہے اوراس کا واحد حل افغانستان پرحملہ کردینا ہی ہے اس کے بعد ہی افغانستان اور پھر کچھ عرصے کے بعد عراق پر قبضہ کرلیا گیا ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے میں مارے جانے والے تین ہزار افراد اور اسی طرح افغانستان اور عراق میں مارے جانے والے لاکھوں افراد کا موازنہ کرتے ہوئے کہا کہ خود امریکی شہریوں اور دوسرے ملکوں میں بہت بڑا حلقہ ایسا ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ خود امریکی حکومت کے ہی بعض اداروں نے امریکہ کے معاشی بحران پر قابو پانے اور مشرق وسطی پر قبضہ جمانے نیز اسرائیل کو نجات دلانے کے لئے ایک طے شدہ منصوبے کے تحت یہ حملہ کرایا تھا۔انھوں نے کہاکہ اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرائي جانی چـاہئے ۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے کہا کہ دہشت گردی کی شناخت اور اس پر قابو پانے کے طریقوں کا جائزہ لینے کے لئے تہران آئندہ برس ایک عالمی اجلاس کی میزبانی کرنے کو تیار ہے۔انھوں نے ملت فلسطین پر صہیونی ریاست کی دہشت گردانہ بربریت کا حوالہ دیتے ہوئے کاروان آزادی پر اسرائیلی کمانڈوز کے حملے اور غزہ پر صہیونی ریاست کی جارحیت کا بھی ذکرکیا اور کہا کہ یورپ میں تمام تر اقدار حتی آزادی بیان جیسی قدروں کو بھی صہیونی ریاست کی ایماء پر پامال کیا جارہا ہے۔ انھوں نے کہاکہ مسئلہ فلسطین کا واحد حل یہ ہے کہ اس علاقے کے عوام کو اپنی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا موقع دیا جائے اور سب ہی فلسطینی عوام ایک آزادنہ ریفرینڈم ميں شرکت کرکے اپنی حکومت کا تعین کریں۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے سلامتی کونسل کے ان ارکان پر تنقید کی جن کے پاس خود ایٹم بم موجود ہيں مگر وہ ایران کی پرامن ایٹمی سرگرمیوں کی مخالفت کرتے ہيں اور اس کے لئے ایران پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کرتے ہيں۔انھوں نے کہا کہ بعض علاقوں میں خاص طور پرخطرناک صہیونی ریاست کے ذریعے ایٹم بم بنانے کے عمل میں تیزی آتی جارہی ہے۔انھوں نے تجویز پیش کی کہ سنہ 2011 کو ایٹمی ہتھیاروں سے پاک دنیا بنانے کا سال قرار دیا جائے۔ انھوں نے کہا کہ سنہ 2011 کا نعرہ یہ ہونا چاہئے کہ "ایٹمی توانائی سب کے لئے اور ایٹمی ہتھیار کسی کے لئے بھی نہيں"۔اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے ایٹمی ایندھن کے تبادلے سے متعلق ایران برازیل اور ترکی کے درمیان انجام پانے والے ڈیکلریشن کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگرچہ مغربی ملکوں نے اس ڈیکلریشن کے ساتھ اچھا سلوک نہیں کیا لیکن یہ ڈیکلریشن ابھی بھی اہم اور معتبر ہے۔ انھوں نے آزادی اور جہموریت کے بہانے کسی بھی ملک پر حملے اور قبضے کو جرم قرار دیا۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اسی طرح سلامتی کونسل میں چند ملکوں کو ویٹو پاور دیئے جانے پر تنقید کرتے ہوئے سلامتی کونسل اور اقوام متحدہ کے ڈھانچے میں اصلاح کا مطالبہ کیا۔ انھوں نے کہا کہ ویٹو پاور ایک غیر منصفانہ حق ہے۔ اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے تمام ادیان الہی کے تئيں احترام کا اظہار کرتے ہوئے امریکہ میں قرآن کریم کو نذرآتش کئے جانے جیسے گھناؤنے واقعات کی مذمت کی۔ صدراحمدی نژاد نے اسی طرح اپنے خطاب کے آغاز میں پاکستان میں آنے والے حالیہ تباہ کن سیلاب اور اس سے ہونے والے نقصانات پر افسوس کا اظہار کیا۔ انھوں نے دنیا کے تمام ملکوں سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں اپنی ذمہ داریاں پوری کریں۔

.....

/110