اسلامی جمہوریہ ایران کےصدر ڈاکٹر احمدی نژاد سیلاب زدہ علاقوں کادورہ کرنے کے لئےجلد ہی پاکستان کےلئے روانہ ہونے والے ہیں۔پاکستانی وزیر داخلہ رحمان ملک سے تہران میں ملاقات کے موقع پرصدر مملکت نے سیلاب سے ہونے والی ہلاکتوں پر تعزیت پیش کی اور کہا کہ سیلاب سے متاثرین کی مدد ایک انسانی اور دینی فریضہ ہے اور ملت ایران اپنے پاکستانی بھائیوں کی مدد کے لئے پوری طرح تیار ہے۔صدر مملکت نے ایران اور پاکستان کےتعلقات کو نہایت قریبی قراردیا اور کہاکہ دونوں ہمسایہ ملک کے مفادات مشترکہ ہیں اور مختلف شعبوں میں تعاون کو فروغ ملنا چاہئے۔صدر مملکت ڈاکٹر احمدی نژاد نے ایران اور پاکستان کے درمیان سیکورٹی کے شعبے میں تعلقات میں فروغ کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ دشمن علاقے میں بدامنی پیدا کرنے کی کوشش کررہا ہے لیکن دوطرفہ تعلقات میں استحکام ان کی سازشوں اورفتنوں کو ناکام بنائے گا۔اس موقع پر پاکستانی وزیر داخلہ رحمن ملک نے سیلاب متاثرین کےلئے بھاری مقدار میں ایران کی امداد کا شکریہ ادا کیا اور سیلاب سے ہونے والے نقصان کی رپورٹ پیش کی۔رحمان ملک نے مختلف میدانوں میں دونوں ملکوں کےدرمیان تعاون کی سطح میں فروغ پر تاکید کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی سرزمین سے ایران کےخلاف کوئی اقدام نہيں ہونے دے گا۔انھوں نے کہا کہ دونوں ممالک سیکورٹی کے شعبے میں تعاون کو فروغ دے کر دہشتگردی کا مقابلہ کرسکتے ہیں۔اس میں شک نہیں ہے کہ صدر اسلامی جمہوریہ ایران کا سیلاب متاثرین کے ساتھ ہمدردی کے اظہار کے لئے پاکستان کا مجوزہ دورہ دونوں قوموں کے تعلقات میں مزید استحکام میں نہایت موثر واقع ہوگا جبکہ صدرڈاکٹراحمدی نژاد سیلاب زدہ علاقوں کا دورہ کرنے کے لئےجلد ہی پاکستان روانہ ہونے والے ہیں؛ یوں صدر احمدی نژاد دنیا کے پہلے سربراہ مملکت ہونگے جو اس مشکل گھڑی میں پاکستانی عوام کی مدد کو پہنچیں گے۔ان کے دورہ پاکستان اور سیلاب زدگان کے لئے ایک کروڑ ڈالر کی امداد کے اعلان کی خبر پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کے دورہ تہران کے موقع پر سامنے آئی۔رحمان ملک نے اپنے اس دورے میں صدر آصف علی زرداری کا ایک اہم پیغام پہنچانے کے ضمن میں صدر احمدی نژاد کی طرف سے سیلاب متاثرین کےلئے امداد کا شکریہ ادا کیا۔ایران نے ابتدائی دنوں ہی میں اپنے پاکستانی بھائیوں کے لئے امادی سامان کی ترسیل کا کام شروع کردیا تھا اور ابتک امدادی سامان لیکر کئی سی ۔ 130 طیارے پاکستان جا چکے ہیں اور یہ سلسلہ اب مزید تیز ہوگیا ہے۔دریں اثناء بعض نامعلوم وجوہات کی بنا پر ایران سے جانے والی امداد کی تقسیم میں نادرست روشیں اپنائے جانے سے متعلق خبروں کو نظر انداز کیا جارہا ہے۔بہرحال ایران کی جانب سے دی جانے والی امداد اور امدادی کاموں کا جائزہ لینے کے لئے اسلامی جمہوریہ ایران کے بعض اعلی اہلکار پاکستان کے دورے پر ہیں اور صدر ڈاکٹر احمدی نژاد کا دورہ عنقریب متوقع ہے جس سے دونوں قوموں کے درمیان پائے جانے والے دوستی کے گہرے رشتوں کی عکاسی ہوتی ہے۔ دونوں اقوام کے درمیان موجودہ دوستی اور مفاہمت روایتی اور معمول کے سفارتی اصولوں سے کہیں زیادہ گہرے ہیں کہ جسے دونوں ملکوں کے حکام بھی اچھی طرح سے سمجھ لیتے ہیں، لہذا پاکستان کے وزیر داخلہ رحمان ملک کا حالیہ دورہ تہران اور صدر احمدی نژاد کا متوقع دورہ پاکستان کو اسی تناظر میں دیکھنے کی ضرورت ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110