پولیس ذرائع کا کہناہے کہ حملہ آور نے داتا دربار میں داخل ہوکر تہہ خانے میں پہلا دھماکا کیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں باہر سے بھاگتے ہوئے اندر آنے والے شخص ہی کو دربار کے خادمین نے پکڑنے کی کوشش کی تھی۔ عثمان کے خود کش حملے کے نتیجے میں 3 افراد شہید ہوئے تھے جس کے بعد دوسرے حملہ آور کو دربار کے اندر داخل ہونے کا موقع ملا۔پولیس ذرائع کا کہناہے کہ عثمان کی شناخت اس کی تلاش میں آنے والے اس کے دو بھائیوں شریف اور لطیف کے ذریعے ہوئی۔دونوں نے سی سی ٹی وی فوٹیج میں دیکھ کرعثمان کی شناخت کی۔عثمان کے دونوں بھائیوں کو پولیس نے حراست میں لے کر نامعلوم مقام پر منتقل کر دیا۔پولیس ذرائع کے مطابق عثمان اس کے زیر حراست دونوں بھائیوں اور دیگر اہل خانہ کا ڈی این اے ٹیسٹ بھی کرایا جا رہا ہے۔داتا دربار میں ہونے والا یہ دھماکہ اپنی نوعیت کا نہ تو پہلا دھماکہ ہے نہ ہی اس کو آخری قرار دیا جاسکتا ہے ۔مبصرین کے بقول دہشت گردوں کو چونکہ پوری طرح تخفظ کا احساس حاصل ہے لہذا پکڑ دھکڑ اور cct فوٹیج کے ذریعے ان کی شناخت کو معنی نہیں رکھتی البتہ اس درمیان جو چیز قابل غور وہ پاکستان کے وفاقی وزیربراۓ اقلیتی امور کا بیان ہی جنہوں نے کہا ہے پوری قوم کو شدت پسندوں کے خلاف اعلان جہاد کردینا چاہیے۔ دوسری طرف پنجاب کے وزیر اعلی شہباز شریف نے بھی ایک سخت بیان جاری کیا ہے انکا کہنا ہے که داتادربارپر حملہ کرنے والوں کو کیفرکردارتک پہنچائے بغیر چین سے نہیں بیٹھیں گے۔ لاہور میں واقع گنگارام اسپتال میں زخمیوں کی عیادت کے دوران میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے وزیراعلی پنجاب نے کہا کہ واقعہ کی جتنی بھی مذمت کی جائے کم ہے ۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردوں کاانسانیت اورمذہب سے کوئی تعلق نہیں۔ البتہ بعض کالعدم تنظیوں اور ان سے وابستہ افراد کے ساتھ ان کی پارٹی اور مسلم لیگ ن کے عہدیداروں کے مراسم کسی پر پوشیدہ نہیں ہیں ۔ ماضی میں سابق صدر پرویز مشرف میاں محمد نواز شریف کو خفیہ طالبان قرار دے چکے ہیں ۔مقامی اخباری ذرائع کے مطابق وزیراعلیٰ پنجاب طالبان کے حوالے سے صراحت کے ساتھ یہ کہہ چکے ہیں کہ کہ مسلم لیگ (ن) دہشتگردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج کے ساتھ کھڑی ہے اور (ن) لیگ ہرگز طالبان کی حامی نہیں ہے ، طالبان کی حمایت سے تو شہباز شریف نے انکار کردیا لیکن کالعدم دہشتگرد تنظیم سپاہ صحابہ اورمسلم لیگ نون کے درمیان رابطوں سے وہ انکا ر نہیں کرسکتے ؟بہرحال دیکھنا یہ کہ وزیر اعلی شہباز شریف داتا دربار میں ہوئے دہشت گردی کے اس واقعہ سے نمٹ سکیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
/110