اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،محمد علی الحوثی نے صنعاء کے مشرقی علاقے بنی حشیش کے الشریعہ گاؤں میں سعودی حملے کی کوریج کرنے والے المسیرہ ٹی وی کے عملے کو نشانہ بنانے کی شدید مذمت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ صحافی شہریوں کے قتلِ عام کی دستاویز بندی کر رہے تھے کہ انہیں حملے کا نشانہ بنایا گیا۔
الحوثی نے کہا کہ صحافیوں اور فوٹوگرافروں کو پیشہ ورانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران نشانہ بنانا آزادیٔ صحافت پر حملہ ہے، جس کا مقصد یمن میں ہونے والے واقعات اور شہریوں کی ہلاکتوں کو دنیا کی نظروں سے چھپانا ہے۔
انہوں نے المسیرہ ٹی وی کے کارکنوں کی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ گزشتہ 12 برس سے یمنی عوام کی مشکلات اور جنگ کے اثرات کو دنیا تک پہنچا رہا ہے۔ ان کے مطابق، یمنی میڈیا کو خاموش کرانے کی سعودی کوششیں ناکام ہوں گی۔
الحوثی نے صحافیوں اور میڈیا کارکنوں پر حملوں کو بین الاقوامی انسانی قانون کے تحت جنگی جرم قرار دیا اور عالمی میڈیا سے اپیل کی کہ وہ یمن میں شہریوں کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کو منظرِ عام پر لائے۔
دوسری جانب، یمن کی وزارتِ صحت کے ترجمان کے مطابق، الشریعہ گاؤں پر بمباری میں 33 افراد شہید ہوئے، جن میں 8 خواتین اور 13 بچے شامل ہیں، جبکہ 39 افراد زخمی ہوئے۔
آپ کا تبصرہ