بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ امریکہ کی زمینی افواج کے زیادہ تر بنیادی ڈھانچے کویت میں واقع ہوئے ہیں؛ عریفجان میں کنٹرول اور کمانڈ سینٹر سے لے کر 'امریکی یوروکام' (US European Command) سے امریکی مرکزی کمانڈ یعنی 'سینٹکام' (US Central Command) تک افواج کی نقل و حرکت اور فوجی سازوسامان کی نقل و حمل کے اہم مراکز تک۔
مختلف قسم کے ٹینکوں، 'ہمارس' (HIMARS) راکٹ سسٹمز اور 'ایم کیو-9' (MQ-9) ڈرونز کے کنٹرول اور رہنمائی کے سازوسامان کی تعیناتی نے اس ملک کو ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں کی معاونت کا ایک اہم مرکز بنا دیا ہے۔
اس صورت حال میں، 'علی السالم' ایئر بیس کو خصوصی مقام حاصل ہے؛ ایسا اڈہ جو امریکی فضائیہ کے 386 ویں ایئر ایکسپیڈیشنری ونگ کی تعیناتی کا مقام ہے اور خطے میں امریکہ اور اتحادی افواج کی فضائی نقل و حمل کے اہم مراکز میں شمار ہوتا ہے۔ 'سی-130 ہرکولیس' (C-130 Hercules) ٹرانسپورٹ طیارے اس بیس سے افواج اور سازوسامان کی منتقلی کے لئے استعمال ہوتے ہیں اور طبی انخلا کی ٹیمیں مریضوں اور زخمیوں کی فضائی منتقلی کی ذمہ داری سنبھالتی ہیں۔
اس ونگ کی مجموعی سرگرمیوں میں ماہانہ تقریباً 600 پروازیں اور سالانہ تقریباً 54 ہزار ٹن سامان اور ایک لاکھ 80 ہزار افراد کی منتقلی شامل ہے؛ ایسا نیٹ ورک جس کے اہم مراکز میں سے ایک علی السالم ہے۔

فوجی نقل و حمل سے لے کر MQ-9 ڈرونز کی رہنمائی تک
علی السالم کا کردار افواج اور سازوسامان کی نقل و حمل تک محدود نہیں۔ یہ بیس 'MQ-9 Reaper' ڈرونز کے کنٹرول اور کمانڈ کا اہم مرکز بھی ہے؛ ایسے ڈرونز جن کی پرواز کی مدت طویل ہے اور جو فوجی نقل و حرکت کی شناخت اور نگرانی کے علاوہ ہتھیار لے جانے اور درست حملے کرنے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔
ان ڈرونز کے کنٹرول اور رہنمائی کا سازوسامان امریکہ کے اس بنیادی ڈھانچے کا حصہ ہے جو آبنائے ہرمز کی نگرانی اور اس آبی گذرگاہ میں فوجی سرگرمیوں کی معاونت کے لئے استعمال ہوتا ہے؛ ایسا معاملہ جس نے علی السالم کو صرف ایک فضائی نقل و حمل کے بیس سے بڑھ کر کردار سونپ دیا ہے۔
اس بیس کا کردار ہنگامی منتقلی میں بھی پہلے زیادہ واضح ہو چکا تھا۔ 2021 کے موسم گرما میں افغانستان سے انخلا کے دوران، تقریباً 5 ہزار انخلا شدہ افراد علی السالم کے راستے سے گذر گئے اور اس بیس نے افغانستان سے آنے والی 700 سے زیادہ پروازوں کی معاونت کی۔

امریکی کارروائیوں کے اہم مراکز میں سے ایک پر حملوں کی 20 لہریں
تیسری مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے، علی السالم، ایرانی میزائل اور ڈرون حملوں کی کم از کم 20 لہروں کا نشانہ بن چکا ہے۔ تاہم، امریکیوں نے آبنائے ہرمز پر فعال ڈرون-کنٹرول اور ایران کے اعلان کردہ ضابطوں کی خلاف ورزی کرنے والے بحری جہازوں کی رہنمائی میں اس بیس کے کردار کی وجہ سے، مختلف طریقوں سے اس کی سرگرمیوں کو برقرار رکھنے کی کوشش کی ہے اور ریڈار، کنٹرول اور ڈرونز کی رہنمائی کا سازوسامان اس مقام پر منتقل کیا ہے۔
ایران کے حملوں اور علی السالم کی سرگرمیوں کے چکر میں خلل نے امریکی فوجی منتقلی کو سست کر دیا ہے اور خطے میں اس ملک کے دیگر اڈوں پر مزید دباؤ ڈالا ہے؛ ایسا نتیجہ جو عیاں کرتا ہے کہ اس بیس پر ضرب لگانا امریکی فوج کے معاون نیٹ ورک اور علاقائی کارروائیوں کو بھی متاثر کرتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی طلوع وند
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ