اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے بحرین میں منعقدہ منامہ ڈائیلاگ کے 22ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بتایا کہ شام کی جانب سے مکہ دفاعی اتحاد میں شمولیت کے امکان کا جائزہ لینے کے لیے بات چیت جاری ہے۔
الشیبانی نے علاقائی سلامتی کو مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ حقیقی سلامتی اسی وقت ممکن ہے جب ممالک اپنے عوام کے تحفظ کی صلاحیت رکھتے ہوں اور ہمسایہ ممالک ایک دوسرے کی خودمختاری کا احترام کریں۔
ان کے بقول، مشرقِ وسطیٰ میں استحکام کا انحصار معاشروں کو انتشار سے محفوظ رکھنے اور امن کی مضبوط بنیادیں قائم کرنے پر ہے۔
شام کے وزیر خارجہ نے زور دیا کہ دمشق اب اپنی سرزمین کو ہمسایہ ممالک کے لیے خطرہ بننے کے کسی پلیٹ فارم کے طور پر استعمال ہونے کی اجازت نہیں دے گا۔
انہوں نے عراق کے وزیر اعظم کے ساتھ حالیہ مذاکرات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان مذاکرات میں بندرگاہ بانیاس کے ذریعے تیل کی ترسیل دوبارہ شروع کرنے کے معاملے پر بھی بات ہوئی۔ ان کے مطابق، اس اقدام سے توانائی کی فراہمی برقرار رکھنے اور مشترکہ اقتصادی روابط مضبوط بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔
الشیبانی نے جنوبی شام کی زمینی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ دو سال سے بھی کم عرصے کے دوران اس ملک کو اسرائیل کے ایک ہزار سے زائد حملوں کا سامنا کرنا پڑا ہے، جن کے نتیجے میں درجنوں شہری جاں بحق ہوئے۔
شام کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں پر تنقید کرتے ہوئے انہوں نے سوال اٹھایا کہ ایک طرف سرحدوں پر کنٹرول اور اسلحے پر ریاستی اجارہ داری کا مطالبہ کیسے کیا جا سکتا ہے، جبکہ دوسری طرف اسرائیل روزانہ شام کی خودمختاری کی خلاف ورزی کر رہا ہے؟
شام کے وزیر خارجہ نے کہا کہ دمشق ان حملوں کے خاتمے کے لیے مذاکرات کا راستہ اختیار کر رہا ہے اور 8 دسمبر 2024 سے پہلے کی سرحدی پوزیشنوں پر واپسی اور 1974 کے افواج کی علیحدگی کے معاہدے پر عمل درآمد کا مطالبہ کرتا ہے۔
آپ کا تبصرہ