بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || نماز جمعہ تہران کے اس ہفتے کے خطیب، حجت الاسلام والمسلمین حاج علی اکبری نے نماز جمعہ کے دوسرے خطبے میں کہا: جوہری نظریے پر نظرثانی کا موضوع اٹھانا ایران کی قوم کے تلخ تجربات کا نتیجہ اور بازدارندگی (روک تھام) کی ضرورت کے بارے میں آگاہی اور بصیرت میں اضافے کا ثمرہ ہے۔ جوہری نظریے پر نظرثانی کا مطالبہ، ایرانی قوم کی امن و سلامتی کی ضرورت اور باوقار زندگی کے قومی حق میں پیوست ہے۔
دوسرا اور آخری حصہ:
ایران کے جوہری نظریے پر نظرثانی کے مطالبے کا اٹھایا جانا کسی جذباتی ردعمل کا نتیجہ نہیں ہے، کہا: یہ مطالبہ ایران کی قوم کی آگاہی اور بصیرت کی پختگی سے پیدا ہوا ہے؛ ایسی قوم جو اپنے امن کو اہمیت دیتی ہے اور توقع رکھتی ہے کہ حکام ملک کی سکیورٹی مساوات میں تمام پہلوؤں اور ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھیں۔
یہ خواہش ایران کی قوم کے باوقار زندگی اور پائیدار امن کے حق سے جڑی ہوئی ہے اور اسے محض وقتی یا جذباتی ردعمل نہیں سمجھا جا سکتا۔
یہ مطالبہ اٹھانے کے بعد، معاشرے کے مختلف حصوں میں استقبال اور درخواست کی لہر پیدا ہوئی اور طلبہ، اسکول کے بچوں، یونیورسٹی اساتذہ، نخبگان اور تاجروں سمیت گروہوں نے اس پر ردعمل ظاہر کیا۔
ایک قومی سروے میں 70 فیصد سے زیادہ جواب دہندگان نے جوہری نظریے پر نظرثانی کا مطالبہ کیا، انہوں نے زور دیا: ہم ایک قومی مطالبے کے سامنے ہیں اور یہ معاملہ کسی خاص گروہ تک محدود نہیں ہے۔
ضروری ہے کہ نخبگان اور ماہرین موضوع کے مختلف پہلوؤں کا دقیق جائزہ لے کر اپنی تجاویز اور منصوبے پیش کریں تاکہ متعلقہ حکام بھی تکمیلی جائزے انجام دیں۔
جائزوں سے حاصل ہونے والی تجاویز اور خلاصے انقلاب کے عزیز، دانا اور عالی قدر رہبر کی خدمت میں پیش کیے جائیں تاکہ ان کی تشخیص اور فیصلے کے مطابق عمل کیا جائے؛ کیونکہ سب رہبری کے دائرے میں چلتے ہیں اور وہ جو بھی فیصلہ کریں، وہی عمل کی بنیاد ہوگا؛ تاہم، معاشرے کی سطح پر بننے والے مطالبے کا اٹھایا جانا اور جائزہ لینا بھی اہمیت رکھتا ہے۔

تہران کے جمعہ کے خطیب نے آخر میں ایران کی قوم کی آئندہ راہ میں کامیابی کی امید کا اظہار کرتے ہوئے وحدت کے تحفظ، عوامی آگاہی کی مضبوطی اور عالمی استکبار کے خلاف مزاحمت کے تسلسل پر زور دیا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ