خبر رساں ادارے اہل بیت(ع) ـ ابنا کے مطابق، فلسطین انفارمیشن سینٹر کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی چینل 13 نے رپورٹ کیا ہے کہ صہیونی فوج کے چیف آف اسٹاف ایال زامیر نے سیاسی حکام سے تحریری ضمانت طلب کی ہے کہ اس حساس دور میں ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کی ذمہ داری وہ خود قبول کریں گے۔
اسرائیل ہمارا گھر ہے پارٹی کے سربراہ اور سابق وزیرِ جنگ ایویگڈور لائبرمین نے بھی نیتن یاہو کے اقدامات پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ وزیرِاعظم جو کچھ کر رہے ہیں، وہ اسرائیل اور اس کی سلامتی سے غداری کے مترادف ہے۔
اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹس کے سربراہ یائیر گولان نے بھی واضح کیا کہ کسی واضح جواز کے بغیر فوجی کارروائی سے گریز ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی فوجی آپریشن کی اجازت صرف اسی صورت میں دی جانی چاہیے جب اس کے لیے واضح سکیورٹی ضرورت، تزویراتی مقصد اور ذمہ دارانہ عملی منصوبہ موجود ہو۔
اسرائیلی چینل 12 کے مطابق گولان نے کہا کہ وہ چیف آف اسٹاف کی پیشہ ورانہ ذمہ داریاں ادا کرنے کے عزم کی مکمل حمایت کرتے ہیں اور کسی ایسے فوجی اقدام کی اجازت نہیں ہونی چاہیے جو واضح سکیورٹی ضرورت، تزویراتی ہدف اور ذمہ دارانہ عملی منصوبے کے بغیر کیا جائے۔
اسرائیلی اپوزیشن رہنما یائیر لاپید نے بھی چینل 12 کی ایک رپورٹ کے ردعمل میں نیتن یاہو کے حالیہ بیانات اور اقدامات پر تنقید کی۔
لاپید نے کہا کہ نیتن یاہو نے گزشتہ روز اعلان کیا کہ امریکی سکیورٹی امداد ختم ہو چکی ہے اور پابندیاں اسرائیلی معیشت کو شدید نقصان پہنچائیں گی، جبکہ آج صبح انہوں نے ایک ایسی ویڈیو جاری کی جس میں تل ابیب پر ایٹمی بم گرنے کا منظر دکھایا گیا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ نیتن یاہو نے اسی رات انتخابات مؤخر کرنے کے مقصد سے ایران کے ساتھ کشیدگی اور محاذ آرائی بڑھانے کی خواہش کا اعلان کیا۔ لاپید نے اپنے بیان میں نیتن یاہو کو اقتدار سے ہٹانے کا مطالبہ بھی کیا۔
نیتن یاہو کے مخالفین حکومت سازی کے لیے مذاکرات کی تیاری میں
ایک صہیونی میڈیا رپورٹ کے مطابق، نیتن یاہو کے مخالف اتحاد ’’چینج الائنس‘‘ کے رہنما حکومت بنانے میں کامیابی کی صورت میں فوری طور پر اتحادی مذاکرات شروع کرنے کی تیاری کر رہے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق اپوزیشن رہنماؤں کو خدشہ ہے کہ حکومت سازی کے مذاکرات کے دوران نیتن یاہو سکیورٹی کشیدگی میں اضافے یا کسی نئے واقعے کا باعث بن سکتے ہیں۔
اس اتحاد نے ماضی میں سکیورٹی کشیدگی میں اضافے کے بعض واقعات کا حوالہ دیا ہے، جن میں ’’بلیک بیلٹ‘‘ اور ’’گارڈین آف دی والز‘‘ کارروائیاں اور کورونا وبا شامل ہیں۔ رپورٹ کے مطابق یہ واقعات ان ادوار میں پیش آئے جب حکومت سازی کی ذمہ داری نیتن یاہو کے پاس نہیں تھی۔
رپورٹ میں ایران کے ساتھ کشیدگی کے آغاز کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جو فوج میں لازمی بھرتی کے قانون سے متعلق بحران کے عروج کے دوران شروع ہوئی تھی۔ رپورٹ کے مطابق اس پس منظر نے اپوزیشن کے اس خدشے کو بڑھا دیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال میں کوئی نئی تبدیلی حکومت سازی کے مذاکرات کے عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
آپ کا تبصرہ