26 اکتوبر 2026 - 10:14
بحرین کے قید علما شہید نصراللہ کے مکتبِ فکر کے راستے پر گامزن ہیں

بحرین کی اسلامی ایکشن پارٹی کی مرکزی کونسل کے رکن شیخ راشد الراشد نے کہا ہے کہ شہید سید حسن نصراللہ کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے مزاحمت کو محض ایک فکری مکتب سے آگے بڑھا کر ایک عملی اور تمدنی منصوبے میں تبدیل کیا۔

خبر رساں ادارے اہل بیت(ع) ـ ابنا کے مطابق، شیخ راشد الراشد نے ابنا کے نمائندے سے گفتگو کرتے ہوئے شہید بزرگوار سید حسن نصراللہ کے خصوصی مقام کی طرف اشارہ کیا اور کہا کہ وہ صرف مزاحمت کے ایک فکری مکتب کے نمائندہ نہیں تھے، بلکہ ان کی نمایاں کامیابیوں میں سے ایک یہ تھی کہ انہوں نے مزاحمت کے نظریے کو ایک واضح اور عملی تمدنی منصوبے میں تبدیل کیا۔

انہوں نے کہا کہ شہید نصراللہ نے ولایت کے حقیقی مفہوم کو مجسم کیا اور اسے عملی طور پر نافذ کیا۔ ان کے مطابق، شہید نصراللہ نہ صرف ولایتِ فقیہ کی پیروی کرتے تھے بلکہ اس عقیدے کا فخر اور سربلندی کے ساتھ اظہار بھی کرتے تھے۔

شیخ راشد الراشد نے مزید کہا کہ شہید نصراللہ نے ایک نئے تمدنی لائحہ عمل کی بنیاد رکھی، جس کے مطابق ولایتِ فقیہ اور اس کی اطاعت امتِ مسلمہ کے خیمے کا ستون ہے۔

بحرین کی اسلامی ایکشن پارٹی کی مرکزی کونسل کے رکن نے امت کے علما کی جانب سے اس راستے کو جاری رکھنے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ آج امت کے علما، بالخصوص بحرین کے وہ علما جو ولایتِ فقیہ پر اعتقاد رکھنے کے الزام میں بحرینی حکومت کی جیلوں میں قید ہیں، اسی راستے پر گامزن ہیں۔

شیخ راشد الراشد نے آخر میں کہا کہ یہ کامیابیاں شہید بزرگوار سید حسن نصراللہ کے مکتبِ فکر کے ثمرات اور نتائج میں شامل ہیں، جو آج انسانی اور عالمی سطح پر فکری میدان میں اپنی جگہ بنا چکے ہیں اور یہ ثابت کرتے ہیں کہ ’’ولایتِ فقیہ‘‘ کے نام سے ایک عظیم تمدنی منصوبہ موجود ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha