26 اکتوبر 2026 - 09:59
کیا عظمت کی بحالی کے لئے جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ - 3

اس مضمون میں، "ایرانی سلطنت" سے مراد ملک گیری، عالمگیری یا قدیم سرحدوں کی طرف واپسی نہیں ہے؛ بلکہ مقصود اس مقام، طاقت اور اثر و رسوخ کی طرف واپسی ہے جو ایران کو اپنے تاریخی ادوار میں حاصل رہا ہے، جب دنیا میں اس کی بات کو اہمیت دینا پڑتی تھی اور مشرق وسطیٰ کے توازن میں اس کی بات حرف آخر ہوتی تھی۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ آج کی دنیا میں، طاقت چار عناصر پر مشتمل ہوتی ہے: معیشت، آبادی، جغرافیہ اور فوجی ٹیکنالوجی۔ ان چار عناصر میں، جوہری ہتھیار حتمی تسدید کے طور پر جانا جاتا ہے؛ ایک ایسا اوزآر جو اپنے مالک کو تزویراتی استثنیٰ عطا کرتا ہے اور اسے عظیم طاقتوں کی طرف کی براہ راست فوجی دھمکی سے دور رکھتا ہے۔

تیسری اور آخری قسط:

• ایران اس کھلاڑی کا کردار ادا کرنے کے بجائے، جو ہمیشہ بحرانوں کا انتظام کرنے پر مجبور ہے، اس کھلاڑی کا کردار ادا کرے گا جو بحرانوں کو شکل دیتا ہے یا انہیں ناکارہ بناتا ہے۔

• بہت سے ایرانی چاہتے ہیں کہ شمالی ایران اور بحرین کو بھی مادری سرزمین میں شامل کرنا چاہئے، اور یہ کام بالکل ممکن ہے اور شاید مستقبل میں کچھ علیحدہ ہونے والے علاقے واپس آ جائیں۔

• ایران تیل اور گیس کے عظیم ذخائر اور منفرد جغرافیائی سیاسی مقام کے ساتھ خطے کا توانائی اور سلامتی کا مرکز، کوریڈورز کا نیٹ ورک اور حکمرانی کا نمونہ بن سکتا ہے۔

یہ درست ہے کہ جوہری تسدید جنگ کو نہیں روک سکتی لیکن:

• تناؤ کی سیڑھی پر مثبت اثر ڈال سکتی ہے۔

• ایران کی قیادت کو قتل کی دھمکیاں، وجودی دھمکیاں اور جوہری حملوں کی دھمکیاں ایک طرف رکھی جائیں گی اور تنازعات مقررہ دائروں تک محدود رہیں گے۔

• طویل مدت تک آبنائے ہرمز کو مکمل بند کرنا اور دوست ممالک کے جہازوں کی آمدورفت کو جاری رکھنا، عالمی معیشت پر قابل ذکر اثر ڈال سکتا ہے۔

• جوہری ہتھیار مخالف فریق کے لئے جنگ کی لاگت اور خطرہ بڑھا سکتا ہے، خاص طور پر اگر وہ ملک یقین رکھتا ہو کہ حملے کے بعد بھی جواب دینے کی صلاحیت موجود ہے۔ یہی جوہری تسدید کا تصور ہے۔

• ایرانی سلطنت کی بحالی کا مطلب حملہ اور ملک گیری نہیں بلکہ اس زمانے کی طرف واپسی ہے جب ایران نے کسی بیرونی طاقت کی اجازت کے بغیر اپنی اور خطے کی قسمت کا تعین کیا۔

• اس فریم ورک میں ایٹم بم اس دروازے کی کنجی ہے جسے چار دہائیوں کی دھمکیوں اور پابندیوں نے بند کرکے رکھا ہے۔

• اگر ایران دوبارہ مشرق وسطیٰ اور دنیا میں پہلی اور آخری بات کرنا چاہتا ہے تو اسے ایسے اوزار کی ضرورت ہے جسے کوئی دوسری طاقت نظر انداز نہ کر سکے۔

* آج کی دنیا میں وہ اوزار جوہری تسدید ہے۔

*نکتہ: ایرانی سلطنت کا نیا مفہوم نئی اسلامی تہذیب ہے جو خطے کی تمام مسلمان اقوام کے ساتھ مل کر قائم کی جائے گی۔ ان شاء اللہ

کیا عظمت کی بحالی کے لئے جوہری ہتھیاروں کی ضرورت ہے یا نہیں؟ - 3

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha