اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، عراق کے وزیر اعظم نے سرکاری خبر رساں ایجنسی ’’واع‘‘ کو بتایا کہ خطے کا بحران، ممکنہ منظرناموں سے قطع نظر، کسی معاہدے کے ذریعے ختم ہونا چاہیے۔
ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ عراق اور ایران کی سرحدیں بند کرنا دونوں ممالک کے مفاد میں نہیں۔ ایران کے ساتھ سرحدیں بند کرنے کا مطلب یہ ہوگا کہ ہم خود کو معاشی محاصرے میں ڈال دیں۔
عراقی وزیر اعظم نے خلیجی ممالک کے ساتھ بغداد کے تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ عراق کی پالیسی ان ممالک کے ساتھ منفرد اور متوازن تعلقات قائم کرنے پر مبنی ہے۔
سعودی عرب کے اپنے حالیہ دورے کے بارے میں انہوں نے کہا کہ یہ سفر پہلے سے طے شدہ تھا اور سعودی عرب کے لیے ایک مثبت پیغام کی حیثیت رکھتا تھا۔ انہوں نے بتایا کہ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات میں خطے کی سلامتی اور دونوں ممالک کے مستقبل کے تعلقات پر گفتگو ہوئی۔
الزیدی نے کہا کہ بغداد سعودی عرب کے ساتھ خصوصی تعلقات قائم کرنے اور خلیجی ممالک کے ساتھ روابط مزید مضبوط بنانے کے لیے کوشاں ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے ملک میں مسلح گروہوں اور اسلحے کو ریاست کے کنٹرول میں لانے کے معاملے پر بھی بات کرتے ہوئے کہا کہ عراق جلد ہی مسلح گروہوں سے پاک ہوگا اور اسلحہ صرف سکیورٹی فورسز کے پاس رہے گا۔
انہوں نے کہا کہ اسلحے کی اجارہ داری ریاست کے پاس رکھنے کا فیصلہ حتمی اور ناقابلِ واپسی ہے اور 30 جون 2027 تک ریاستی ڈھانچے سے باہر کوئی اسلحہ باقی نہیں رہے گا۔
الزیدی کے مطابق حکومت عراق نے تین مسلح گروہوں کے ساتھ اسلحے کے معاملے پر اتفاق رائے حاصل کرلیا ہے، جبکہ اس عمل کی تکمیل کے لیے مزید چار گروہوں سے مذاکرات جاری ہیں۔
عراقی وزیر اعظم نے دعویٰ کیا کہ بغداد نے ملک کو بین الاقوامی تنہائی میں پھنسنے سے بچا لیا ہے، جس کا سامنا اسے چند ہی دنوں میں ہوسکتا تھا۔
انہوں نے کہا کہ عراق کو پابندیوں اور سفارتی اہلکاروں کے انخلا کے خطرے کا سامنا تھا، تاہم حکومت اس صورتِ حال سے نکلنے میں کامیاب رہی۔
الزیدی کے مطابق مغربی ممالک میں یہ تاثر پیدا ہوگیا تھا کہ عراقی حکومت مخصوص گروہوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اسلحہ رکھنے کے لیے ماضی میں پیش کیا جانے والا جواز بھی ختم ہوجاتا ہے۔
عراقی وزیر اعظم نے اعلان کیا کہ اس وقت عراق میں کوئی امریکی فوجی موجود نہیں، حتیٰ کہ بطور مشیر بھی نہیں۔
انہوں نے ترکیہ کی افواج کے انخلا اور بعشیقہ فوجی اڈے کو عراقی فوج کے حوالے کرنے کے حوالے سے ہونے والی مفاہمت کا بھی ذکر کیا۔
الزیدی نے واضح کیا کہ عراق کسی جنگ میں شامل نہیں ہوگا اور آئندہ بھی مختلف فریقوں کے درمیان اجتماع اور مذاکرات کے لیے ایک مقام کا کردار ادا کرتا رہے گا۔
عراقی وزیر اعظم نے مزید بتایا کہ سنجار ریزسٹنس یونٹس، جنہیں ’’وائی پی ایس‘‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، کے ساتھ سنجار پہاڑ کا کنٹرول حوالے کرنے اور ان کے ارکان کو حشد الشعبی میں شامل کرنے کے حوالے سے بھی مفاہمت ہوگئی ہے۔
سنجار ریزسٹنس یونٹس، جنہیں پہلے ’’ملک طاؤوس کے سپاہی‘‘ کہا جاتا تھا، عراق میں یزیدی جنگجوؤں کی ایک تنظیم ہے جو 2007 میں عراق اور عراقی کردستان کی یزیدی برادری کے تحفظ کے لیے قائم کی گئی تھی۔
آپ کا تبصرہ