21 اکتوبر 2026 - 08:39
ایرانی صدر: مذاکرات سے پہلے پابندیاں اور دھمکیاں ختم کی جائیں

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا ہے کہ امریکا اگر واقعی مذاکرات اور معاہدے کا خواہاں ہے تو اسے پہلے ایران کے خلاف دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرنا ہوں گی۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے منگل کی شام،کو پاکستان کی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سے ملاقات میں کشیدگی کم کرنے اور مسائل کے سفارتی حل کے لیے پاکستان کی کوششوں کو سراہا۔

پزشکیان نے مذاکرات کے دوران امریکا کی جانب سے وعدہ خلافیوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ امریکا نے مذاکرات کے دوران ہی ایران پر حملہ کیا، رہبرِ انقلاب، سائنس دانوں اور بے گناہ طلبہ کو نشانہ بنایا۔ ان کے مطابق خطے میں کشیدگی، تنازعات اور آبنائے ہرمز میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کی بنیادی وجہ امریکا کی جنگ طلبانہ پالیسیاں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایران نے جوہری مذاکرات اور معائنوں کے معاملے میں بین الاقوامی قوانین کے دائرے میں رہتے ہوئے اپنی نیک نیتی ثابت کی ہے، اس لیے ایران کے خلاف امریکی الزامات بے بنیاد ہیں۔

پزشکیان نے واضح کیا کہ روز بروز پابندیاں اور دباؤ بڑھاتے ہوئے مذاکرات کی بات کرنا بے معنی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا کو پہلے دھمکیاں اور پابندیاں ختم کرکے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ سنجیدہ مذاکرات چاہتا ہے۔

ایرانی صدر نے مزید کہا کہ جنگ نہ ایران کے مفاد میں ہے، نہ خطے اور دنیا کے، حتیٰ کہ امریکا کے بھی نہیں۔ امریکا کو جواب دینا چاہیے کہ اس نے جنگ کیوں شروع کی اور کیوں خود سمیت پوری دنیا کو مشکلات سے دوچار کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ ایران ماضی میں بھی مذاکرات کے لیے تیار تھا اور اب بھی تیار ہے، لیکن امریکا کو پہلے اپنے اقدامات سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ دوبارہ دھوکا نہیں دے گا۔ ایرانی عوام کو امریکا پر اعتماد نہیں اور انہیں خدشہ ہے کہ مذاکرات کے باوجود دوبارہ حملہ کیا جا سکتا ہے۔

پزشکیان نے کہا کہ امریکی ذرائع ابلاغ میں ایران پر حملے کی دھمکیوں کے ذریعے عوام کو خوف زدہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، لیکن ایرانی قوم شہادت سے خوف زدہ نہیں۔ انہوں نے پاکستان سمیت مسلم ممالک پر زور دیا کہ وہ امریکا کو یہ سمجھائیں کہ مسلمانوں کے ساتھ اس طرح کا رویہ اختیار نہیں کیا جا سکتا۔ ان کا کہنا تھا: ’’ہم کسی پر زور زبردستی نہیں کرنا چاہتے، لیکن خود بھی جبر کے سامنے سر نہیں جھکائیں گے۔‘‘

پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر نے ملاقات میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں سے آگاہ کیا اور دوبارہ جنگ چھڑنے کے خدشات پر تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان اس سلسلے میں اپنا کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔

عاصم منیر نے اسلام آباد مفاہمت کے طے نہ پانے پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کا مطلب کمزوری یا امریکا کے سامنے تسلیم ہونا نہیں، کیونکہ ایرانی قوم بارہا اپنی عزت، اقتدار اور طاقت دنیا کے سامنے ثابت کر چکی ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات جنگ، تصادم اور عدم تحفظ کے بجائے مسائل حل کرنے کا ایک موقع ہیں۔

انہوں نے سرحدی راستوں میں پیش آنے والی مشکلات اور متعلقہ علاقے میں کیے گئے سکیورٹی اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاملہ فوری طور پر وزارتِ خارجہ کے حکام کے سامنے اٹھایا گیا اور عارضی نوعیت کی رکاوٹ آج صبح دور کر دی گئی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha