بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ دی اکانومسٹ نے لکھا:
سعودی عرب ایک وسیع رقبے والا ملک ہے جسے دفاع کی ضرورت ہے۔ یہ رقبے کے لحاظ سے فرانس سے چار گنا بڑا ہے، لیکن اس کے پاس فضائی دفاعی میزائلوں (انٹرسیپٹر میزائلز) کا ذخیرہ بہت محدود ہے۔
اقتدار سنبھالنے کے بعد، بن سلمان نے مقبولیت حاصل کرنے کی امید سے، سعودی معاشرے میں تبدیلیاں متعارف کرائیں۔ تاہم، ان اقدامات کے باوجود، سعودی ریاست کا روایتی بنیادی ڈھانچہ بڑی حد تک بدستور قائم ہے:
- معیشت اب بھی تیل سے حاصل ہونے والی آمدنی پر انحصار کرتی ہے؛
- فوج کو بنیادی طور پر میدانِ جنگ میں لڑنے کے بجائے "آلِ سعود" (شاہی خاندان) کے تحفظ کے لئے منظم کیا گیا ہے؛ اور
- سعودی خارجہ پالیسی اب بھی امریکہ پر ایک ناگزیر سرپرست کے طور پر انحصار کرتی ہے، جو واشنگٹن کو سیاسی، اقتصادی اور عسکری مساوات میں واحد کلیدی فریق سمجھتی ہے۔
سعودی عرب مزید امریکہ پر انحصار نہیں کر سکتا / "مکہ معاہدہ"
"معاہدہ مکہ" ـ جو سعودی عرب، پاکستان اور ترکیہ کے درمیان ایک باہمی دفاعی معاہدہ ہےـ ایسے نئے اتحادیوں کی تلاش کی ایک کوشش ہے جو امریکہ کی جگہ لے سکیں؛ ایک ایسا ملک جس پر اب یقین کے ساتھ بھروسہ نہیں کیا جا سکتا۔ بہرحال، اس طرح کی تبدیلی لانے کے لئے اس معاہدے پر انحصار کرنا قبل از وقت ہے۔
دی اکانومسٹ کے محتاطانہ جائزے کے برعکس کچھ ماہرین کا خیال ہے کہ آل سعود کی سلطنت انہدام کی ڈھلان تک پہنچ چکی ہے اور اس کے بچاؤ کا کوئی راستہ نہیں ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: شیدا فرہادیان پور
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مثال کے طور پر سابق امریکی میرین اسکاٹ رٹر نے کہا: محمد بن سلمان کا کام تمام ہے۔ اگر خوش قسمت نہ ہؤا تو اس کا سر "اللہ اکبر" کے نعرے لگانے والے لوگوں کے ہاتھوں، تلوار سے، قلم کیا جائے گا۔ اگرخوش قسمت ہؤا تو آخری پرواز سے اپنے تیار کردہ لندن یا واشنگٹن والے خفیہ ٹھکانے میں پہنچ پائے گا۔
اسکاٹ رٹر کے مطابق، آل سعود کو نجات دلانا، ناممکن ہے۔
ادھر سعودی اپوزيشن رہنما سعد الفقیہ کا کہنا ہے کہ انصار اللہ نے بن سلمان کا چہرہ خاک میں رگڑ لیا ہے۔
انھوں نے آل سعود سے مخاطب ہوکر کہا ہے: ""یورپ اور امریکہ تمہارے ساتھ ہیں، یمن میں درجنوں ملیشیا گروپ تمہارے ساتھ ہیں، اور تم نے ڈیڑھ 1/5 ٹریلین (1500 ارب) ڈالر ہتھیاروں پر خرچ کر دیئے ہیں؛ لیکن نتیجہ کیا نکلا؟ انصار اللہ کے اراکین پیشقدمی کر رہے ہیں؛ ہر طرف سے تم پر میزائل داغ رہے ہیں، تمہارے ہوائی اڈوں کو بند کر رہے ہیں اور تمہاری تیل کی برآمدات میں خلل ڈال رہے ہیں!
سعد الفقیہ نے حجاز و نجد کے عوام سے مخاطب ہوکر کہا: سعودی خاندان قابل احترام اور قابل اعتماد نہیں ہے، اس کے خلاف اٹھ کھڑے ہوجاؤ اور اس کے تخت بادشاہی سے اتار پھینکو۔
یاد رہے کہ رہبر شہید انقلاب امام سید علی خامنہ ای (اعلی اللہ مقامہ) نے نے آل سعود کے ہاتھ شیخ باقر نمر کے سر قلم کرنے اور بے دردی سے شہید کرنے کے واقعے پر فرمایا تھا: اس مظلوم شہید کا خون آل سعود کو نیست و نابود کرے گا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ و تعلیق: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ