15 اکتوبر 2026 - 22:30
چوتھی قسط | سعودی بحران؛ سرمایہ کاروں کے فرار، مشکل سفارت کاری اور جنگ پھیلنے کا خطرہ

سعودی تیل کے بنیادی ڈھانچے پر یمنیوں کے حملوں، اقتصادی ترقی کے امکانات میں کمی اور بجٹ خسارے میں اضافے نے محمد بن سلمان حکومت پر دباؤ مزید سخت کر دیا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی ولی عہد محمد بن سلمان اپنی حکمرانی کے دور کے سب سے بڑے بحرانوں میں سے ایک کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ یمن کی انصاراللہ نے سعودی سرزمین پر اپنے حملے شدید تر کر دیئے ہیں؛ جبکہ دوسری طرف سے ریاض کے اتحادی براہ راست جنگ میں داخل ہونے سے گریز کر رہے ہیں۔

چوتھی اور آخری قسط:

سعودی عرب سے سرمایہ کاروں کے فرار کا خطرہ

جنگ کے دوبارہ بڑھنے سے سرمایہ کار سعودی عرب سے دور ہو سکتے ہیں۔ تیل کمپنیوں بی پی اور شیل کے سی ای اوز نے عالمی توانائی کونسل کی توانائی کانگریس میں اپنی شرکت منسوخ کر دی ہے۔

حملے بن سلمان کی حمایت یافتہ سب سے اہم سرمایہ کاری کانفرنس "فیوچر انویسٹمنٹ انیشیٹو" کے انعقاد کو بھی متاثر کر سکتے ہیں، جو اسی ماہ کے آخر میں منعقد ہونے والی تھی۔

بلومبرگ کے مطابق بدھ کے روز، اس تقریب کے منتظمین متبادل منصوبوں پر غور کر رہے ہیں، بشمول بالمشافہ اور آنلائن انعقاد!

بلومبرگ میں ابھرتی منڈیوں کے چیف ماہر اقتصادیات زیاد داؤد نے کہا: "ایران کے ساتھ جنگ سے پہلے بھی، سعودی عرب سرمایہ برآمد کرنے والے ملک سے سرمایہ درآمدات کے ضرورتمند ملک میں تبدیل ہو گیا تھا۔ جنگ نے بیرونی مالی معاونت کی اس ضرورت کو مزید بڑھا دیا ہے؛ اور یمن میں حوثیوں کے ساتھ تنازع میں شدت آنے سے سعودی عرب کے اخراجات میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔

مشکل سفارت کاری اور جنگ پھیلنے کا خطرہ

سعودی عرب چند سال قبل پس پردہ سفارت کاری اور عمان کی ثالثی کی مدد سے تنازعات کی شدت کنٹرول کرنے میں کامیاب رہا تھا۔

ان کوششوں نے ریاض اور انصاراللہ کے درمیان گہرے اختلافات کو حل نہیں کیا، لیکن ایک کمزور قسم کے سمجھوتے کی تشکیل کا باعث بنیں جس کے ساتھ دونوں فریق قبول کر سکتے تھے۔

گذشتہ مذاکرات کے فریم ورک میں، سعودی عرب نے یمن میں انصاراللہ کے زیر کنٹرول علاقوں میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کا ایک حصہ ادا کرنے کی شق کو قبول کیا تھا۔ اس کے بدلے، انصاراللہ کی افواج نے بہت حد تک، سعودی سرزمین پر حملوں سے گریز کیا تھا۔

تاہم بلومبرگ نے لکھا کہ سعودی حکام کے اپنے حساب و کتاب سے واقف افراد کے مطابق، ریاض اس وقت مذاکرات کی طرف راغب نہیں ہے اور ممکنہ طور پر اپنے حملے مزید تیز کرے گا!

سعودی حکام کو تشویش ہے کہ اگر وہ کمزوری کی حالت میں مذاکرات میں داخل ہوئے تو انصاراللہ یمن  محسوس کرے گی کہ اس کا پلڑا بھاری ہے اور وہ اپنی پوزیشن مضبوط کرے گی۔

نکتہ: انصار اللہ کی پوزیشن مضبوط ہے، اس نے جنوب اور جنوب مغرب میں سعودی عرب کے زیر قبضہ علاقے آزاد کرا لئے ہیں، اور اس وقت جنگ شمال مشرق میں سعودی زیر قبضہ علاقوں کی طرف منتقل ہو گئی ہے۔ چنانچہ انصار اللہ ـ جو سعودی وعدوں کی حقیقت سے آگاہ ہے ـ سعودی عرب کے ساتھ مذاکرات کی طرف مائل نہیں ہے بلکہ یمنیوں کا خیال ہے کہ یہ جنگ میدان میں اختتام پذیر ہوگی۔ مذاکرات ہونگے، یمن کا پلڑا بھاری ہوگا، اور سعودی محمد بن سلمان کو ایک فاتح فریق کے ساتھ بیٹھ کر بات کرنا ہوگی۔ یہ انجام ہے جارحوں کا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha