بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ سعودی آرامکو کمپنی کے مینیجنگ ڈائریکٹر، امین الناصر نے خام تیل کی فراہمی پر دباؤ کے بارے میں خبردار کیا اور اسے "عالمی سطح پر خطرناک" قرار دیا۔
امین الناصر نے ریفائنڈ ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ صورتحال توانائی کی منڈیوں کو درپیش چیلنجوں میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
الناصر نے پیر کے روز ریاض میں بین الاقوامی توانائی کانفرنس میں کہا: "کہ دنیا میں خشکی پر موجود تیل کے تجارتی ذخائر کی سطح 6 ارب بیرل سے بھی کم ہو گئی ہے اور یہ آخری دستیاب دفاعی لائن ہے۔"
الناصر کا کہنا تھا: "6 ارب بیرل کے اس ذخیرے میں سے ایک بڑا حصہ دسترس سے خارج ہے، اور اس کو نکالا نہیں جا سکتا۔"
انھوں نے کہا: جب تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر دوبارہ نہیں کھلے گا، اور اعتماد بحال نہیں ہو جاتا، توانائی کی سپلائی چین پر دباؤ بڑھتا رہے گا؛ اور اگر یہ آبنائے دوبارہ کھل بھی جائے، تب بھی مانگ کو پورا کرنے کے ساتھ ساتھ، ذخائر کی دوبارہ تکمیل میں دو سال تک کا عرصہ لگ سکتا ہے۔"
الناصر نے کہا: "آرامکو خام تیل کی برآمد کے لئے اضافی راستوں کا جائزہ لے رہی ہے اور بیرونِ ملک ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں توسیع کر رہی ہے۔"
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب توانائی کی فراہمی کے تحفظ اور آبنائے ہرمز کے راستے سے جہاز رانی میں جاری خلل کے حوالے سے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
ادھر آبنائے ہرمز ـ جو دنیا میں تیل اور گیس کی تجارت کا بنیادی گذرگاہ سمجھا جاتا ہے ـ میں جہاز رانی کو درپیش رکاوٹیں بدستور قائم ہیں، اور یوں ایران پر امریکی - صہیونی عسکری جارحیت کے بعد سے جاری عدم استحکام نے توانائی کی منڈیوں کو ایک غیر یقینی اور نازک صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
ادھر سعودی عرب کے وزیر توانائی، شہزادہ عبدالعزیز بن سلمان نے ریاض میں عالمی توانائی کونسل کی کانفرنس میں کہا: "'سب کے لئے توانائی' کا کوئی مستقبل نہیں ہے جب تک سب کے لئے توانائی کا تحفظ حاصل نہ ہو جائے۔"
سعودی وزیر توانائی نے گویا بالواسطہ طور پر ایران کے اس موقف کی تصدیق کی ہے کہ "سب کو تیل اور گیس برآمد کرنے کا موقع ملنا چاہئے ورنہ کوئی بھی تیل اور گیس برآمد نہیں کر سکے گا۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ