8 اکتوبر 2026 - 15:17
ایران کے مقابل امریکا پسپائی پر مجبور، غیر روایتی حربوں نے واشنگٹن کا حساب بگاڑ دیا

برطانیہ سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی اور مشرق وسطیٰ سے امریکی فوجی اہلکاروں کے ایک حصے کا انخلا، ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کو درپیش بڑھتے ہوئے فوجی اور لاجسٹک دباؤ کی نشاندہی کرتا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، امریکی میڈیا نے رپورٹ کیا ہے کہ برطانیہ کے فرفورڈ اڈے سے 12 بی ون بمبار طیاروں کی واپسی معمول کی منتقلی نہیں تھی بلکہ امریکی حکام کو اس اڈے کے قریب سے ڈرون حملے کے منصوبے سے متعلق قابل اعتماد معلومات ملنے کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق، ایران کے خلاف جنگ کے آغاز کے بعد امریکا نے مشرق وسطیٰ کے بعض فوجی اڈوں سے اپنے اہلکار بھی نکالے ہیں۔ بعض اڈوں کو نقصان پہنچنے کے باعث ان کی تعمیر نو اور مستقبل میں وہاں فوجی موجودگی برقرار رکھنے کے حوالے سے بھی واشنگٹن کو مشکلات کا سامنا ہے۔

امریکی بمبار طیاروں کو خطے سے دور منتقل کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آئندہ ممکنہ حملوں کے لیے انہیں زیادہ طویل فاصلہ طے کرنا ہوگا، جس سے فضائی ایندھن بھرنے اور دیگر لاجسٹک ضروریات میں اضافہ ہوگا۔ خلیج فارس سے تقریباً 2200 میل دور واقع دیگو گارسیا اڈے پر امریکی بحری بیڑوں کا انحصار بھی بڑھ سکتا ہے، جس سے فوجی کارروائیوں کی لاگت اور وقت میں اضافہ ہوگا۔

دوسری جانب واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ایران نے امریکا اور اسرائیل کی روایتی فوجی برتری کے باوجود ڈرونز، سائبر کارروائیوں اور بالواسطہ حملوں جیسے غیر روایتی ذرائع کے ذریعے امریکی افواج پر دباؤ برقرار رکھا ہے۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنایا، امریکی اڈوں پر ڈرون حملے کیے جبکہ یمنی مسلح افواج نے بھی سعودی عرب میں بعض اہداف کو نشانہ بنایا۔

امریکی تجزیہ کاروں کے مطابق، ایران کی فضائی اور بحری صلاحیتوں کو نقصان پہنچنے اور متعدد اعلیٰ کمانڈروں کی ہلاکت کے باوجود تہران نے جنگ میں بعض علامتی اور تزویراتی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔ ایران نے براہِ راست امریکی فوجی برتری کا مقابلہ کرنے کے بجائے اڈوں، رسد کے نظام اور سائبر شعبے کی کمزوریوں کو نشانہ بنا کر واشنگٹن کے لیے جنگ کی لاگت بڑھانے کی کوشش کی ہے۔

فرفورڈ اڈے سے امریکی بمبار طیاروں کی واپسی کو اسی حکمت عملی کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ اگرچہ برطانوی پولیس نے اڈے کے قریب گرفتار کیے گئے پانچ افراد کے پاس ڈرون یا دھماکا خیز مواد برآمد نہیں کیا اور بعد میں انہیں ضمانت پر رہا کردیا گیا، تاہم امریکی انٹیلی جنس کی جانب سے خطرے کے جائزے کے بعد بمبار طیاروں کی منتقلی نے سوالات ضرور کھڑے کیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، بعض ماہرین کا کہنا ہے کہ صرف امریکی بمبار طیاروں کو محفوظ مقام پر منتقل ہونے پر مجبور کرنا بھی تہران کے لیے ایک علامتی کامیابی ہوسکتی ہے۔ اگر ایران اس نتیجے پر پہنچتا ہے کہ امریکی فوجی اڈوں پر دباؤ واشنگٹن کو پسپائی پر مجبور کرسکتا ہے تو اس کے اثرات پورے مشرق وسطیٰ میں امریکی فوجی تعیناتی پر پڑ سکتے ہیں۔

یوں ایران کے خلاف جنگ میں واشنگٹن کے لیے ایک بڑا تضاد سامنے آتا ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایران کی کمزوری اور شکست کے دعووں کے باوجود، تہران نے بھاری نقصانات اٹھانے کے باوجود امریکی فوجی برتری کو ایک مہنگی اور طویل جنگ میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔ اس صورتحال میں امریکا کو خطے میں اپنے فوجی اڈوں اور افواج کی تعیناتی تبدیل کرنے کے ساتھ اضافی اربوں ڈالر کے اخراجات بھی برداشت کرنا پڑسکتے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha