اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، 3 نومبر 2026 کو ہونے والے امریکا کے وسط مدتی انتخابات کے قریب آنے کے ساتھ ہی امریکی مسلمانوں کے ووٹ ریپبلکن اور ڈیموکریٹک جماعتوں کے درمیان مقابلے میں ایک اہم عامل بن گئے ہیں۔ یہ برادری ماضی میں ریپبلکن جماعت کی طرف زیادہ جھکاؤ رکھتی تھی، تاہم 11 ستمبر کے حملوں کے بعد نگرانی میں اضافے، امتیازی سلوک اور شہری آزادیوں پر پابندیوں کے نتیجے میں بتدریج ڈیموکریٹک جماعت کی جانب مائل ہوئی۔ تاہم فلسطین اور مغربی ایشیا کی جنگوں کے حوالے سے واشنگٹن کی پالیسی نے ایک بار پھر اس رجحان میں نمایاں اختلافات پیدا کر دیے ہیں۔
بھارتی میڈیا ادارے WION کے مطابق، حالیہ برسوں میں امریکا کے بہت سے مسلمانوں میں فلسطین کے بارے میں امریکی حکومتوں کی پالیسیوں، بالخصوص غزہ جنگ میں اسرائیل کے لیے واشنگٹن کی حمایت پر بے اطمینانی پیدا ہوئی ہے۔ غزہ میں اسرائیل کی نسل کشی کے دوران جو بائیڈن حکومت کی پالیسی کے نتیجے میں امریکی مسلمانوں کے ایک حصے کی ڈیموکریٹک جماعت کے لیے حمایت میں کمی آئی، جبکہ اسرائیل کی کھلی حمایت اور تارکین وطن کے حوالے سے پابندیوں سمیت ڈونلڈ ٹرمپ حکومت کی پالیسیوں نے بھی اس فاصلے کو ختم نہیں کیا۔ فلسطین کا مسئلہ بدستور مسلمان ووٹروں کے ایک حصے کے سیاسی فیصلے پر اثر انداز ہونے والے اہم عوامل میں شامل ہے۔
اس میڈیا ادارے کے مطابق، فلسطین کے علاوہ ایران کے بارے میں امریکی پالیسی اور مغربی ایشیا میں جنگ کی صورت حال بھی امریکی مسلمانوں کے انتخابات کے بارے میں نقطۂ نظر پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ ٹرمپ حکومت کی اسرائیل سے قربت اور خطے کے تنازعات کے بارے میں واشنگٹن کا رویہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی مسلمان خارجہ پالیسی اور اس کے خطے کے ممالک پر پڑنے والے اثرات کو شہری آزادیوں، امتیازی سلوک اور تارکین وطن کے حقوق جیسے اندرونی مسائل سے جوڑتے ہیں اور ان پالیسیوں پر ناراضی کا اظہار کرتے ہیں۔ اس دوران خطے میں خود کو ثالث اور امن پسند کے طور پر پیش کرنے کی ٹرمپ کی کوششوں کے ساتھ اسرائیل کی حمایت نے بھی امریکی مسلمانوں کے ایک حصے میں شکوک و تنقید کو جنم دیا ہے۔
ان تبدیلیوں کے باعث امریکی مسلمانوں کا ایک حصہ اب خود کو ریپبلکن یا ڈیموکریٹک جماعت کے ساتھ مکمل طور پر وابستہ نہیں سمجھتا اور بعض لوگ آزاد امیدواروں اور تیسری جماعتوں کی طرف بھی جا رہے ہیں۔ امریکی کونسل برائے اسلامی تعلقات (CAIR) کے ایک جائزے کے مطابق، 2024 کے صدارتی انتخابات میں حصہ لینے والے مسلمان ووٹروں میں گرین پارٹی کی امیدوار جل اسٹین کو 53 فیصد حمایت حاصل ہوئی، جبکہ ڈونلڈ ٹرمپ 21 فیصد اور کملا ہیرس 20 فیصد حمایت کے ساتھ اس کے بعد رہے۔ مشی گن میں بھی اسرائیل کو امریکی فوجی حمایت کے خلاف احتجاج کے لیے قائم کی گئی ’’غیر وابستہ‘‘ تحریک نے مسلمانوں کے ووٹوں کو سیاسی دباؤ کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کرنے کی کوشش کی۔
اسی دوران امریکی مسلمان برادری ملک کے سیاسی نظام میں اپنی موجودگی بھی بڑھا رہی ہے۔ WION کی رپورٹ کے مطابق، 26 ریاستوں میں تقریباً 255 مسلمان مختلف سرکاری عہدوں پر کام کر رہے ہیں۔ اس طرح آئندہ انتخابات میں امریکی مسلمان پہلے کے مقابلے میں زیادہ فعال اور بدلتی ہوئی سیاسی قوت بن چکے ہیں۔ اس برادری کے سیاسی فیصلوں پر امریکا کے اندر امتیازی سلوک اور شہری آزادیوں سمیت داخلی مسائل کے ساتھ ساتھ فلسطین، اسرائیل، ایران اور خطے کی جنگوں جیسے خارجہ امور بھی بیک وقت اثر انداز ہو رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ