7 اکتوبر 2026 - 16:53
یمن پر حملہ امریکی و صیہونی ایجنڈے کی تکمیل کی کوشش ہے: سید امین شیرازی

امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے کہا ہے کہ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر حملہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ مفادات سے انحراف اور امریکی و صیہونی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔ پاکستان کسی برادر اسلامی ملک کے خلاف جارحیت کا حصہ بننے کے بجائے ثالثی کا کردار ادا کرے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امامیہ اسٹوڈنٹس آرگنائزیشن پاکستان کے مرکزی صدر سید امین شیرازی نے علماء اور سماجی شخصیات کے ہمراہ گلگت پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ سعودی اتحاد کی جانب سے یمن پر حملہ امتِ مسلمہ کے مشترکہ مقصد سے انحراف اور امریکی و صیہونی ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی کوشش ہے۔

انہوں نے کہا کہ یمن کے عوام نے گزشتہ تین برس کے دوران صیہونی ریاست کے خلاف اقدامات کے ذریعے غزہ، لبنان اور ایران کے مظلوم عوام کی عملی حمایت کی ہے۔ آج یمن پر ہونے والی جارحیت درحقیقت غزہ کے حامی مزاحمتی محاذ کو کمزور اور ختم کرنے کی کوشش ہے۔

سید امین شیرازی نے کہا کہ یمن میں جاری تنازع بنیادی طور پر یمن کا داخلی معاملہ ہے اور کسی بیرونی طاقت کو اس میں جارحانہ مداخلت کا حق حاصل نہیں۔ مسلمان ممالک کے خلاف فوجی کارروائیوں کے ذریعے خطے میں کشیدگی بڑھانا امتِ مسلمہ کے اجتماعی مفادات کے منافی ہے، جس کے نتیجے میں خطے میں مزید عدم استحکام پیدا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی بھی برادر اسلامی ملک کے خلاف جارحانہ کارروائی کا حصہ نہیں بننا چاہیے۔ ماضی میں بھی پاکستان کی پارلیمنٹ نے ایسے معاملات پر ذمہ دارانہ موقف اختیار کرتے ہوئے مسلمان ممالک کے درمیان کشیدگی کم کرنے اور تنازعات کو سیاسی و سفارتی ذرائع سے حل کرنے پر زور دیا ہے۔

آئی ایس او پاکستان کے مرکزی صدر نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ یمن کی صورتحال کو پارلیمنٹ میں زیرِ بحث لایا جائے اور پاکستان کی عوامی امنگوں، قومی مفاد اور امتِ مسلمہ کے اتحاد کو مدنظر رکھتے ہوئے واضح اور اصولی موقف اختیار کیا جائے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کو کسی ایسے اقدام کا حصہ نہیں بننا چاہیے جو ملکی خودمختاری، قومی مفادات اور مسلم دنیا کے اتحاد کے منافی ہو۔

سید امین شیرازی نے خبردار کیا کہ اگر حکومت پاکستان نے اس معاملے پر مناسب اور اصولی موقف اختیار نہ کیا تو پاکستانی عوام اور طلبہ ملک گیر احتجاج کے ذریعے اپنا موقف ریکارڈ کروائیں گے۔

پریس کانفرنس کے شرکاء نے کہا کہ دنیا گزشتہ تین برس کے دوران نام نہاد عالمی امن کے علمبردار اداروں اور خود کو مہذب کہنے والی طاقتوں کا کردار دیکھ چکی ہے۔ ہزاروں انسانوں کی ہلاکت، غزہ میں جاری تباہی اور خطے کے مختلف ممالک پر مسلط کی جانے والی جنگوں نے عالمی نظام کے دوہرے معیار کو بے نقاب کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں امتِ مسلمہ کے لیے کامیابی کا راستہ اندرونی اتحاد، باہمی یکجہتی اور استعماری مداخلت کو مسترد کرنے میں ہے۔ افسوسناک امر ہے کہ بعض مسلم ممالک اب بھی امریکی مفادات کے لیے دیگر مسلم ممالک کے خلاف استعمال ہورہے ہیں، جس سے خطے میں کشیدگی اور انتشار میں اضافہ ہورہا ہے۔

شرکاء نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے باشعور طلبہ ملک کی خودمختاری، فلسطین اور دنیا کے مظلوموں کی حمایت، امتِ مسلمہ کے اتحاد اور سامراجی مداخلت کے خلاف اپنی پُرامن اور جمہوری جدوجہد جاری رکھیں گے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha