6 اکتوبر 2026 - 17:34
کیا امریکہ پر اعتماد کیا جا سکتا ہے؟ تاریخ جواب دیتی ہے: کبھی نہیں! - 2

ٹیفلون (Teflon) ٹرمپ چاہے کتنی ہی کوشش کرے کہ اس پر کوئی الزام نہ لگے لیکن، اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے ایران کے سامنے ذلت آمیز شکست کھائی ہے۔ اس کا ایران کو "بلا شرط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کرنے کا وعدہ اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنے کہ اس کے انتخابی وعدے کھوکھلے نکلے: "کبھی جنگ شروع نہ کرنا" اور "امن و آشتی کا صدر بننا"۔  ٹرمپ جو فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، محض امریکہ کو فاتح قرار دے رہا ہے؛ جو کھلا جھوٹ ہے۔ ٹرمپ اپنے جھوٹ کے بارے میں عالمی رضامندی حاصل کرنے میں اس قدر بے بس ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے حملوں کا رخ ان عالمی رہنماؤں کی طرف موڑ دیا ہے جو اس کے جنون کی حمایت نہیں کرتے؛ جن میں اس کے اپنے ہی ملک میں ماگا کے کچھ وفادار حامی بھی شامل ہیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ٹیفلون (Teflon) ٹرمپ چاہے کتنی ہی کوشش کرے کہ اس پر کوئی الزام نہ لگے لیکن، اب یہ حقیقت بالکل عیاں ہو چکی ہے کہ امریکہ نے ایران کے سامنے ذلت آمیز شکست کھائی ہے۔ اس کا ایران کو "بلا شرط ہتھیار ڈالنے" پر مجبور کرنے کا وعدہ اتنا ہی کھوکھلا ہے جتنے کہ اس کے انتخابی وعدے کھوکھلے نکلے: "کبھی جنگ شروع نہ کرنا" اور "امن و آشتی کا صدر بننا"۔  ٹرمپ جو فتح کا دعویٰ کرنے کا راستہ ڈھونڈنے کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے، محض امریکہ کو فاتح قرار دے رہا ہے؛ جو کھلا جھوٹ ہے۔ ٹرمپ اپنے جھوٹ کے بارے میں عالمی رضامندی حاصل کرنے میں اس قدر بے بس ہو گیا ہے کہ اس نے اپنے حملوں کا رخ ان عالمی رہنماؤں کی طرف موڑ دیا ہے جو اس کے جنون کی حمایت نہیں کرتے؛ جن میں اس کے اپنے ہی ملک میں ماگا کے کچھ وفادار حامی بھی شامل ہیں۔

دوسری قسط:

موجودہ بحران کو ٹرمپ کے  آمریت پسندانہ رویے (Autocratic behavior) سے منسوب کیا جا سکتا ہے۔ اس نے صرف 21 گھنٹے کی گفتگو کے بعد ـ اپنے قریبی چاپلوسوں کے حلقے سے باہر کسی سے مشورہ کئے بغیرـ آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کا حکم دیا؛ ایسا اقدام جو روایتی طور پر جنگی عمل سمجھا جاتا ہے۔

اسلام آباد میں وینس کے غیر حقیقت پسندانہ اور حتیٰ کہ بچگانہ انداز کا موازنہ سابق امریکی مذاکرہ کار ہنری کسنجر (Henry Kissinger) اور ویتنام کے نمائندے لی ڈک تھو (Lê Đức Thọ)  سے کرنے پر زیادہ واضح ہو جاتا ہے: انھوں نے 1973ع‍ کے پیرس امن معاہدے کی تدوین میں چار سال آٹھ ماہ کا عرصہ لگایا۔ وینس نے لیکن ایک دن سے بھی کم عرصے بعد پاکستان چھوڑ دیا اور ایران کو خبردار کیا کہ "ہمارے ساتھ کھیل نہ کھیلو"؛ گویا امریکہ کی مرتب کردہ جنگ سے ہونے والی تباہیاں کوئی ویڈیو گیم ہیں [اور ایران صرف ویڈیو گیم جیت گیا اور مذاکرات کی میز پر آکر ہتھیار ڈالے گا!]

بدقسمتی سے، ان قوموں کی تاریخ ـ جنہوں نے امریکہ کو شکست دی ہے، ـ ایران کے موجودہ خدشات میں مزید اضافہ کرتی ہے اور کچھ زیادہ دلائل فراہم کرتی ہیں کہ وہ واشنگٹن کے کسی بھی وعدے پر اعتماد نہ کرے۔ امریکہ نے شمالی کوریا اور ویتنام کے ساتھ امن معاہدوں پر دستخط کے فوراً بعد ان کی خلاف ورزی کی۔

مختصراً، اس بات سے قطع نظر کہ امریکی صدر کون ہے، امریکہ کو قابل اعتماد نہیں سمجھا جا سکتا۔ ڈیموکریٹ یا ریپبلکن، صدور آتے رہے اور جاتے رہے، لیکن امریکہ کی وعدہ خلافی اور فریب قائم و دائم رہا ہے۔

آج ایرانی فریق کے بنیادی مطالبات میں سے ایک امریکہ کی جانب سے اس ملک کو پہنچنے والی تباہ کاریوں کا معاوضہ ادا کرنا ہے۔ اس موضوع کے سلسلے میں، یکم فروری 1973ع‍ کو ویتنام کے وزیر اعظم فام وان ڈونگ (Pham Van Dong) کو صدر رچرڈ نکسن (Richard Nixon) کا لکھا ہؤا خط کافی اہم ہے۔

نکسن نے اس خط میں اعلان کیا کہ امریکہ اپنے دستخط شدہ معاہدے ـ مورخہ 27 جنوری 1973ع‍ ـ پر عملدرآمد کرے گا جس میں "شمالی ویتنام کی جنگ کے بعد کی تعمیر نو میں امریکی شراکت" شامل ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر مصنف: جارج کاتسیافیکاس؛ یونانی نژاد امریکی مورخ، سماجی مفکر اور مصنف۔

ماخذ: المیادین انگریزی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha