اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،یمنی فوج کے ایک اعلیٰ ذریعے نے سعودی عرب کے مسلسل دعووں کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا ہے کہ یمن کے پاس سعودی حکومت کو جارحیت اور محاصرے کے خاتمے پر مجبور کرنے کے لیے کافی طاقت اور تیاری موجود ہے۔
یمنی فوجی ذریعے نے خبر رساں ادارے سبا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب گزشتہ 12 سال سے ایک ہی طرح کے دعوے اور بیانات دہرا رہا ہے، جن کی یمن کی نظر میں کوئی حقیقت نہیں۔
ذریعے نے کہا کہ سعودی جو کچھ کہنا اور خواہش کرنا چاہیں، کرتے رہیں، لیکن یمنی مسلح افواج کے پاس سعودی حکومت کو جارحیت اور محاصرے کے خاتمے پر مجبور کرنے کی مکمل صلاحیت موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سعودی عرب کی سرزمین کے اندر یمنی مسلح افواج کے میزائل اور ڈرون حملے یمنی عوام کے دفاع کے دائرے میں کیے جا رہے ہیں اور جارحیت کرنے والے کو کسی قسم کا حق حاصل نہیں۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب یمن کے مطابق سعودی عرب کے فضائی حملے جاری ہیں اور صنعا نے سعودی عرب کے خلاف اپنی جوابی کارروائیوں کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حالیہ یمنی میزائل اور ڈرون حملوں میں ریاض میں آرامکو کی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔
رپورٹ کے مطابق ان حملوں نے یمنی مسلح افواج کی اس صلاحیت کو نمایاں کیا کہ وہ سعودی عرب کے اہم اقتصادی اور فیصلہ سازی کے مراکز تک میزائل اور ڈرون پہنچا سکتی ہیں۔ یمنی کارروائیوں کا دائرہ سرحدی علاقوں سے بڑھ کر جیزان، ینبع، جدہ، ابہا، نجران اور مشرق و مغرب پائپ لائن سمیت اہم تنصیبات تک پھیل چکا ہے، جبکہ ریاض اس سلسلے میں اہم ترین ہدف بن کر سامنے آیا ہے۔
فوجی ماہرین اس صورتحال کو ’’محاصرے کے بدلے محاصرہ، حملے کے بدلے حملہ اور دارالحکومت کے بدلے دارالحکومت‘‘ کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جس کے تحت یمن اپنی میزائل اور ڈرون صلاحیتوں کو مسلسل بڑھا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ