اہل بیت نیوز ایجنسی (ابنا) کے مطابق، البخیتی نے کہا کہ سعودی عرب اور اس سے وابستہ فورسز نے صنعاء کی جانب سے یمن کی داخلی جنگ کو شمال اور جنوب کے درمیان تنازع میں تبدیل نہ کرنے کے فیصلے کا فائدہ اٹھایا۔ ان کے مطابق جب سعودی ذرائع ابلاغ تعز میں پیش قدمی اور کامیابیوں کی خبریں نشر کر رہے تھے، سعودی فورسز اور ان کے فوجی اجتماع دراصل محاصرے میں تھے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ ایک مقام پر پیدا ہونے والی دراڑ کو یمنی فورسز نے بند کردیا، جس کے نتیجے میں پیش قدمی کرنے والی فورسز پھنس گئیں۔
سعودی عرب کے ساتھ محاذ آرائی کے حوالے سے البخیتی نے کہا کہ صنعاء نے جنگ کو سعودی نظام کے خلاف کارروائی تک محدود رکھنے کی کوشش کی، لیکن کسی بھی دوسرے ملک کی یمن کے خلاف جنگ میں شمولیت کی صورت میں صنعاء ہر بین الاقوامی محاذ پر مقابلے کے لیے تیار ہے۔
انصار اللہ کے رہنما نے دعویٰ کیا کہ یمن اب سعودی عرب کے تمام ہوائی اڈوں اور بندرگاہوں کو بند کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ریاض کو خبردار کیا کہ بحران کا حل جنگ کو بین الاقوامی بنانا یا یمن کے داخلی محاذوں کو بھڑکانا نہیں ہے۔
البخیتی نے مزید کہا کہ یمن کے خلاف نئی جنگ سعودی عرب کے لیے بھاری قیمت کا باعث بنے گی، کیونکہ سعودی بنیادی ڈھانچہ بھی حملوں کی زد میں آسکتا ہے۔
علاقائی تعلقات کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ صنعاء عرب اور اسلامی ممالک کے درمیان دوستانہ تعلقات کا خواہاں ہے، تاہم یمن پر کسی بھی بیرونی سرپرستی کو قبول نہیں کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ انہیں توقع نہیں کہ ترکی اور پاکستان براہِ راست یمن کے داخلی تنازع میں شامل ہوں گے، تاہم کسی بھی قسم کی براہِ راست یا بالواسطہ شرکت کو یمنی عوام کے خلاف ظلم میں شمولیت تصور کیا جائے گا۔
البخیتی نے آخر میں کہا کہ صنعاء یمن کے خلاف کسی بھی ملک کی جنگ میں شمولیت پر خاموش نہیں رہے گا اور ایسی مداخلت کا رکنا سب کے مفاد میں، بلکہ ان کے بقول سب سے بڑھ کر سعودی عرب کے مفاد میں ہوگا۔
آپ کا تبصرہ