4 اکتوبر 2026 - 18:56
'پایا' سیٹلائٹ روزانہ 6,000 مربع کلومیٹر رقبے کی تصاویر لے رہا ہے؛ اگلا قدم سیٹلائٹ نظام کی تیاری ہے، سربراہ 'صا-ایران' اسپیس گروپ

وزارتِ دفاع کی الیکٹرانکس انڈسٹریز آرگنائزیشن (صا-ایران) کے اسپیس گروپ کے سربراہ نے بتایا کہ "پایا" سیٹلائٹ (طلوع-3) ـ جسے مدار میں شدید لڑکھڑاہٹ (tumbling) کا شکار ہونے کے بعد ماہرین نے مستحکم کیا تھا ـ گذشتہ تقریباً دس مہینوں سے روزانہ 5,000 سے 6,000 مربع کلومیٹر رقبے کی تصاویر لے رہا ہے، اور ملک کا اگلا قدم سیٹلائٹ کونسٹیلیشنز (سیٹلائٹس کے نیٹ ورک یا مجموعے) کی تیاری کی جانب بڑھنا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || وزارتِ دفاع کی الیکٹرانکس انڈسٹریز آرگنائزیشن (صا-ایران) کے اسپیس گروپ کے سربراہ، محرم غیاث وند نے ملک کی خلائی صنعت کی پیش رفت کا خاکہ پیش کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ایران تحقیقی مرحلے سے آگے بڑھ کر صنعتی مرحلے میں داخل ہو چکا ہے اور اب ملک سیٹلائٹ کونسٹیلیشنز کی تیاری کی راہ پر گامزن ہے۔

پس منظر

ایران کی خلائی صنعت نے تحقیقاتی مرحلے سے گزر کر صنعتی دور میں قدم رکھ لیا ہے۔ وزارت دفاع کی کمپنی 'صا-ایران' کے خلائی گروپ کے سربراہ محرم غیاث وند نے بتایا کہ ملک اب "منظومہ سازی" (سیٹلائٹس کا جھرمٹ Satellite constellation) کی طرف بڑھ رہا ہے۔ انھوں نے فلکیات میں مسلم سائنسدانوں کی تاریخی خدمات کی یاددہانی کرائی، جن میں فرغانی، صوفی، خیام، خواجہ نصیرالدین طوسی، الغ بیگ اور غیاث الدین جمشید کاشانی شامل ہیں۔ چاند پر 13 مسلم سائنسدانوں کے نام ثبت ہیں، اور مراغہ و سمرقند کی رصدگاہیں (فلکیاتی مشاہدہ گاہیں Observatories)علمی مراکز رہی ہیں۔

ابتدائی پیش رفت

ایران کا پہلا مقامی سیٹلائٹ "امید" 2009‏ع‍ میں 25 کلوگرام وزن کے ساتھ 300 کلومیٹر کے مدار میں بھیجا گیا، جس کا مشن 40 سے 45 دن تک رہا۔ اس کے بعد سیٹلائٹ کی عمر بڑھانے اور بھاری سیٹلائٹس کے لئے لانچر تیار کرنے پر توجہ دی گئی۔ "سیمرغ" اور "ذوالجناح" وزارت دفاع میں، جبکہ "قاصد" اور "قائم-100" سپاہ پاسداران میں تیار کئے گئے؛ تاہم صرف سیٹلائٹ بنانا کافی نہیں تھا، بلکہ زمینی نظام، ذیلی نظام اور لاکھوں پرزے بھی تیار کئے گئے تاکہ مکمل خلائی خدمات کا سائیکل قائم ہو۔

چمران سیٹلائٹ کی کامیابی

"چمران" سیٹلائٹ (تقریباً 60 کلوگرام) موجودہ حکومت کے آغاز میں کامیابی سے لانچ ہؤا اور ملک میں پہلی بار "مداری ملاقات" کا عمل انجام دیا، یعنی دو خلائی اجسام مدار میں ایک دوسرے کے قریب آئے۔ یہ مشن سپاہ، وزارت دفاع، خلائی تحقیقاتی ادارے، نجی کمپنیوں اور خلائی تنظیم کے تعاون سے مکمل ہؤا۔

سیمرغ سیٹلائٹ لانچر کا ریکارڈ

دسمبر 2024 میں سیمرغ لانچر نے سب سے بڑا 300 کلوگرام وزنی خلائی پے لوڈ 300 کلومیٹر کے مدار میں تعینات کر دیا، جس میں تحقیقی سیٹلائٹس اور سامان (Saman) آربیٹل ٹرانسفر یونٹ شامل تھے۔

پایا (طلوع-3) کا بحران اور کامیابی

"پایا" سیٹلائٹ (طلوع-3) ـ جسے مدار میں شدید لڑکھڑاہٹ (tumbling) کا شکار ہونے کے بعد ماہرین نے مستحکم کیا تھا مگر روسی خلائی تنظیم کے تعاون سے مسئلہ حل ہو گیا۔ لانچنگ کے وقت سیٹلائٹ توقع کے برعکس 200 ڈگری فی سیکنڈ کی رفتار سے گھومنے لگا، جس سے اس کے ضائع ہونے کا خطرہ تھا۔ ماہرین نے خودکار الگورتھم روک کر دستی طور پر 10 دن کی مسلسل محنت سے سیٹلائٹ کو مکمل طور پر مستحکم کیا۔ حساس کیمرے اور آلات کے خراب ہونے کے خدشات کے باوجود پہلی تصاویر کامیابی سے موصول ہوئیں۔

موجودہ کارکردگی اور آئندہ منصوبہ

"پایا" گذشتہ تقریباً دس مہینوں سے روزانہ 5,000 سے 6,000 مربع کلومیٹر علاقے کی تصویر کشی کر رہا ہے۔

غیاث وند کے مطابق اگلا قدم سیٹلائٹ کونسٹیلیشنز (سیٹلائٹس کے نیٹ ورک یا مجموعے) کی تیاری کی جانب بڑھنا ہے؛ تاکہ ایران پیچیدہ خلائی مشنز سرانجام دینے میں بھی کامیاب ہو۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

'پایا' سیٹلائٹ روزانہ 6,000 مربع کلومیٹر رقبے کی تصاویر لے رہا ہے؛ اگلا قدم سیٹلائٹ نظام کی تیاری ہے، سربراہ 'صا-ایران' اسپیس گروپ

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha