بین الاقوامی تجزیہ گروپ: مائیکل یانگ، کارنیگی فاؤنڈیشن میں "دیوان" (Diwan) میگزين کے ایڈیٹر مائیکل ینگ (Michael Young) کا ماننا ہے کہ جس وقت امریکہ ایران کے ساتھ اپنے تنازع میں الجھن اور ناکامی کا شکار ہؤا ہے اور ـ "وہم پیدا کرنے کا استاد" ـ ڈونلڈ ٹرمپ، امریکی رائے عامہ اور دیگر لوگوں کو قائل کرنے کی کوشش کر رہا ہے کہ اس کی ناکام فوجی کارروائی درحقیقت اپنے اندر حتمی فتح چھپائے ہوئے ہے، اس کے باوجود "اچھی خبر" یہ ہے کہ یہ تمام پیش رفت مشرق وسطیٰ میں "امریکی ساختہ سلامتی" سے فاصلہ بڑھانے کی طرف بڑھنے کے عمل کو تیزتر کر رہی ہے۔
تیسری قسط:
3۔ بالادستی کی ٹوٹ پھوٹ
ینگ کہتے ہیں: "نیتن یاہو نے غزہ پر جارحیت کے آغاز اور بنیامین نیتن یاہو کے متکبرانہ انداز سے ایک نئے مشرق وسطیٰ کے معرض وجود میں آنے [اور گریٹر اسرائیل تشکیل دینے] کے بارے میں بیانات دیئے، جس کو اس کے بقول 'اسرائیل قآئم کرے گا، جس کے ساتھ ہی خطے کے بہت سے ممالک جو ابراہیم معاہدوں سے خوش تھے، ناگہانی حیرت اور تعطل سے دوچار ہوئے۔"
وہ بعدازاں اسرائیل کے اہداف اور اقدامات کے حوالے سے وضاحتیں پیش کرتے ہیں اور کہتے ہیں: "اسرائیلیوں نے کئی بار غزہ پر قبضہ کیا اور اب وہ اس کی آبادی کو نکالنے یا قتل کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ 2025 میں، انہوں نے قطر پر حملہ کیا اور دوحہ میں حماس کے دفتر کو نشانہ بنایا۔ پھر اانہوں نےے جنوبی شام کے کچھ حصوں پر قبضہ کیا اور فی الحال وہاں موجود ہیں اور اس ملک کی تقسیم کے لئے بھی دباؤ ڈال رہے ہیں۔
اسرائیل نے صومالی لینڈ کو تسلیم کیا تاکہ بحیرہ احمر کے دہانے پر، ـ جو سعودی عرب کی اہم سمندری گذرگاہ ہے، ـ تزویراتی موجودگی قائم کر سکے۔ اس نے لبنان پر حملہ کیا اور اب اس ملک میں مستقل طور پر موجود رہنے، اپنے لئے ایک مطلوبہ امن معاہدہ حاصل کرنے اور لبنان میں خانہ جنگی کی آگ دوبارہ بھڑکانے کی کوشش کر رہا ہے اور اس کو بہت زيادہ توقع ہے کہ یہ تمام امور بیک وقت حاصل کر لے گا۔
اسرائیلیوں بعدازاں ٹرمپ کی حکمران کے ماتحت امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں گھسیٹا، اس امید سے کہ وہ ایران کے سنگین خطرے سے چھٹکارا حاصل کر سکیں گے، لیکن بالآخر انہیں اپنی اسی تزویراتی غلطی کا احساس ہو گیا اور انہیں اپنے منصوبوں کی بدترین ناکامی کا تلخ ترین واقعہ بھی اپنی آنکھوں سے دیکھنا پڑا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ