1 اکتوبر 2026 - 10:18
قالیباف کا بیسینٹ کی ہرزہ سرائی کا جواب، امریکا کی معیشت پر دباؤ کا نیا فارمولا پیش

ایران کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسینٹ کے ایران کی معیشت کے حوالے سے حالیہ دعووں کے جواب میں امریکا کی معیشت کو درپیش مشکلات اور ایران کے ممکنہ دباؤ کے عوامل کی نشاندہی کی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بیسینٹ نے حال ہی میں دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی معیشت آئندہ دو ہفتوں میں تباہ ہوجائے گی۔ اس کے جواب میں قالیباف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر امریکا کے معاشی حالات اور ایران کے ممکنہ دباؤ کے ذرائع پر تفصیل سے بات کی۔

قالیباف نے کہا کہ امریکی حکومت نے ماضی میں تقریباً صفر شرحِ سود پر بڑے پیمانے پر قرضے لیے تھے، لیکن اب ان قرضوں کی ادائیگی کا وقت آگیا ہے اور امریکی حکومت کو انہیں چکانے کے لیے زیادہ شرحِ سود پر نئے قرضے لینا پڑ رہے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکی سرکاری بانڈز کے خریداروں کی صلاحیت اور دلچسپی بھی مسلسل کم ہورہی ہے۔ ان کے مطابق چین اور جاپان جیسے بڑے خریدار نئے امریکی بانڈز خریدنے یا پہلے سے موجود بانڈز برقرار رکھنے میں پہلے کے مقابلے میں کم دلچسپی دکھا رہے ہیں، جس کے باعث بانڈز کی شرحِ منافع میں اضافہ ہورہا ہے۔

قالیباف نے بیسینٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ آبنائے ہرمز کی بندش، توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور امریکی بانڈز کی شرحِ منافع پر اثرات جیسے عوامل امریکی وزارت خزانہ پر بڑھتا ہوا دباؤ ڈال رہے ہیں۔ ان کے بقول، ایران کے حقوق کا احترام کیے بغیر امریکا ان معاشی مسائل پر قابو نہیں پاسکے گا۔

 امریکا کے 30 سالہ سرکاری بانڈز کی شرحِ منافع گزشتہ روز 2002 کے بعد بلند ترین سطح پر پہنچ گئی، جبکہ موجودہ رجحان برقرار رہنے کی صورت میں اس کے مزید بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

قالیباف نے اپنی پوسٹ میں بیسینٹ کے نئے مشیر ڈیوڈ زرووس کی تصویر بھی شامل کی، جنہیں حال ہی میں مقرر کیا گیا ہے۔ زرووس ماضی میں اپنے بعض غیر معمولی بیانات کے باعث بھی توجہ حاصل کرچکے ہیں، جبکہ ان کی تقرری کو امریکی مالیاتی منڈیوں میں طنزیہ تبصروں کا موضوع بھی بنایا گیا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha