28 ستمبر 2026 - 23:06
بہت جلد بحیرۂ عرب بھی خود کو دشمن کی موجودگی سے خالی کرا لے گا، رہبر انقلاب

رہبر انقلاب نے خطے میں توازن کی تبدیلی اور آبنائے ہرمز کی حدود میں دشمن کی افواج پر لگائی جانے والی ضربوں کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: "عنقریب، بحیرۂ عرب بھی خود کو اامریکی افواج سے خالی کرالے گا۔"

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، رہبر انقلاب اسلامی اور ایران کی مسلح افواج کے کمانڈر انچیف حضرت آیت اللہ امام سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای پہلی مسلط جنگ کے آغاز کے دنوں کی سالگرہ اور ایرانی قوم کے آٹھ سالہ اور زندہ جاوید دفاع کے ایام اللہ کی مناسبت سے ایک پیغام میں، تسلط پسندوں کی اس کوشش کا حوالہ دیتے ہوئے فرمایا: وہ انقلاب کی پہلی دہائی میں جنگ مسلط کر کے ایران کو پسماندگی اور "ذلت و خواری" اور وابستگی اور بدنامی کے دور کی طرف لوٹا دینا چاہتے تھے؛ تاہم ان کی تمام تر کوششوں کے باوجود، اسلامی نظام پہلے سے زیادہ توانا اور مضبوط، زیادہ ‏معروفیت اور ناموری اور اونچی اڑان کے ساتھ "قُقنُوس" (Phoenix) کی طرح اٹھ کھڑا ہؤا، اور یہ بعد کے برسوں میں دشمن کے پیدا کردہ واقعات میں اس نظام کی مستقل خصلت بن گئی۔ اور اب وہ قُقنُوس دشمن کے دباؤ اور بالخصوص حالیہ دو مسلط کردہ جنگوں کی وجہ سے سے اس قدر بڑا ہو گیا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑ گیا ہے۔

رہبر انقلاب اسلامی نے عالم عرب کے بہادر امیر اور محاذ مزاحمت کی عظیم علامت جناب سید حسن نصراللہ کی شہادت کی دوسری برسی کے موقع پر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہوئے، اور حزب اللہ لبنان کے سیکریٹری جنرل جناب شیخ نعیم قاسم کے مجاہدوں کی عاشورائی مقاومت و مزاحمت اور مجاہدت کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے، واضح کیا: لبنان کے یہ دن تمام مجاہدینِ مقاومت کے لئے نمایاں اور باعث فخر دن ہیں اور اُن لوگوں کے لیے ذلت آفرین اور بالآخر اُن لوگوں کے لئے ذلت آفرین اور بالآخر شرمسار کرنے والے دن ہیں جو صہیونی دشمن کے سامنے، تسلط پسندوں اور اپنے دشمنوں کے جھوٹے وعدوں کے وفا ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

انقلاب اسلامی نے مستکبرین کے تسلط کے تاریک دنوں کو، اسلامی جمہوریہ کے پُرنور دنوں میں بدل دیا

رہبر انقلاب اسلامی کے پیغام کا متن درج ذیل ہے:

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

﴿وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا مُوسَى بِآيَاتِنَا أَنْ أَخْرِجْ قَوْمَكَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ وَذَكِّرْهُمْ بِأَيَّامِ اللَّهِ﴾

[ہجری شسمی سال کے مہینے] مہر کے ابتدائی [اور ستمبر کے مہینے کے آخری عشرے کے] دن، ایام اللہ اور پہلی مسلط جنگ میں ایرانی قوم کے آٹھ سالہ فیصلہ کن دفاع کے عظیم اور زندہ جاوید واقعے کی یاد دلاتے ہیں۔

ان دنوں میں ایران کی سرزمین کی وسعتوں میں انقلاب کے سورج کی گرم کرنیں، قومی یکجہتی اور اسلامی انقلابی مکتب و مسلک سے وفاداری کا ایک خوشگوار احساس پھیلا رہی تھیں، جس کے اثر سے استعماری اور پرانی اور نئی سامراجیت کی برف پگھل رہی تھیں۔

ان دنوں میں ایران کے بعض لوگوں کو ـ اس سے بیس پچیس سال پہلے کے سامراجیوں کی بدخواہی اور تیل کی صنعت کو قومیانے سے متعلق واقعات اور امریکی بغاوت سے متعلق ـ حادثات  یاد تھے۔ بعض دوسروں نے اس کی خبریں سنی تھیں اور ان میں سے بہت سے اس حقیقت کو اچھی طرح محسوس کر چکے تھے کہ اجنبیوں کا ہمارے ملک کے امور پر تسلط ان کے لئے کن کن مسائل و مصائب کا باعث بنا تھا۔ مگر اس سے پہلے کے دن، تاریک اور ظلمانی دن تھے جب مستکبر ریاستوں کے سفیر ہمارے ملک بادشاہِ کو 'کچھ کرنے اور نہ کرنے کے احکامات' ڈکٹیٹ کرتے تھے اور بادشاہ کو رغبت سے یا پھر با دل نآخواستہ ـ وہی کچھ نافذ کرنا پڑتا تھا۔ یہاں تک کہ حضرت امام خمینی (رضوان اللہ علیہ) کی قیادت میں، ایرانی قوم کے عظیم انقلاب نے  وہ بساط ہی الٹ دی۔ وہ تاریک دن اس انقلاب کے اثر سے اسلامی جمہوریہ ایران کے قیام کے نور سے روشن اور پُرنور دنوں میں بدل گئے۔

یہ واقعہ اُن تسلط پسندوں پر بہت گراں گذترتا تھا جنہوں نے اس سرزمین کی دولت پر للچائی نگاہ جمائے رکھی تھی اور برسوں سے اس پر قابض ہونے کے لئے اس کے باشندوں کے ساتھ ہر قسم کی دشمنیاں برائی روا رکھی تھی۔ چنانچہ اس کے بعد انہوں نے اپنی ساری ہمت اور کوشش انقلابی قوم کے طوفانی دریا کے بہاؤ کو پرانی سمت لوٹانے پر صرف کر دی اور اسلامی جمہوریہ کی حیاتِ با برکات کی پہلی دہائی  [آٹھ سالہ] مسلط جنگ ان کا سب سے اہم اقدام، تھی۔

اس جنگ کی بھڑکی ہوئی آگ کے اندر سے ـ جو انسان دشمن دشمن بعث پارٹی کے ہاتھوں اور چند دنوں کی جنگ اور کم زحمت کی فتح کے وہم کی بنیاد پر سے بھڑکائی گئی تھی، ـ اسلامی نظام ققنوس کی مانند، پہلے سے زیادہ توانا، طاقتور اور مضبوط ب کر اٹھ کھڑا ہؤا، ایسے حال میں کہ اس کی آواز پہلے سے زیادہ بلند تھی،  اور اس کی اڑان پہلے سے زیادہ بلند بلند تھی؛ اور یہ بعد کے برسوں میں دشمن کے پیدا کردہ واقعات میں اس نظام کی مستقل خصلت بن گئی۔

وہ دن جب دشمن نے اپنے اجرتیوں کو اس قوم پر مسلط کیا تھا اور استعمار کی ایک نئی شکل نافذ کی تھی، انقلاب کی برکت اور اسلام اور جہاد کا پرچم بلند ہونے کے بدولت، مسلط جنگ کے بیچ میں ایسے قابل فخر و اعزاز ایام میں، دنوں میں بدل گئے کہ آج، اس واقعے کے اختتام کے 38 برس بعد بھی، جب ہم ان واقعات کا انتہائی باریک بینی سے جائزہ لیتے ہیں اور بچ جانے والوں کے سچے بیانات پر غور کرتے ہیں؛ وہ ایسے مثالی کردار جو ہر ایک اپنے اندر لگن، جرات، استقامت، اخلاقیات اور انسانیت کا درس سموئے ہوئے ہے ـ تو وہ ہماری قومی تاریخ کے افق پر درخشاں ستاروں کی مانند جگمگاتے دکھائی دیتے ہیں۔

جارح اور بالادستی کے خواہاں طاقتیں، مسلم مجاہدین کے سامنے، جنگ کے خاتمے بھیک مانگتی ہیں

حملوں کے آغاز میں، جن دنوں تسلط پسند [امریکی] نظام کے پیروؤں نے، بہت سے خطرات کے مقابلے میں، ہمارے ملک کو اپنے دفاع کے لئے نظام طاغوت کے خالی ہاتھ ورثے میں دیئے تھے، قیامِ حق اور امدادِ الٰہی کی برکت سے، اب ایسے دور میں پہنچ گئے ہیں کہ خود تسلط پسند سامراجی حملہ آور، ـ نہ کہ ان کے پیرو ـ، اسلام کے مجاہدوں کے حملوں کے سامنے، پناہ کی تلاش میں ہیں اور جنگ چھوڑنے کے لئے منت سماجت کے عنوان سے، دست اٹھا رہے ہیں۔

جن ایام میں وہ ہمارے ملک کو واپس پلٹانا چاہتے ہیں، وہ پسماندگی، ذلت و خواری، وابستگی اور انحصار اور عالم اسلام میں ایران کی بدنامی کے ایام تھے؛ اور یہ دن جن سے ہم گذر رہے ہیں، ترقی، عزت، استقلال و خودمختاری اور عالم اسلام ہی نہیں بلکہ پوری دنیا میں اعتبار کی بلند ترین قدر و قیمت سے مالامال ہیں۔

اللہ کا قاعدہ ہمیں دنیا کی پہلی طاقت مانتا ہے

آج کچھ لوگ ہمیں دنیا کی چوتھی بڑی طاقت (Fourth Superpower) مانتے ہیں۔ البتہ وہ دنیاوی ضوابط و قواعد کے تحت ایسی باتیں کرتے ہیں؛ لیکن الٰہی قواعد، اس ملک کو ـ جو خود کو عترت طاہرہ (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) سے متعلق مانتا ہے ـ اور جس کے اکثر لوگ اُن والا مرتبہ ہستیوں سے دل بستہ ہیں اور قیامِ حق کے قیام کے لئے کسی خوف میں مبتلا نہیں ہوتے ـ دنیا کی پہلی طاقت مانتے ہیں۔

قریب ہے کہ بحیرۂ عرب بھی خود کو دشمن کی قوتوں سے خالی کرا لے گا

اُن دنوں ایران کے دو جنوبی سمندر دشمن افواج کی جَولاں گاہ کی تھے، لیکن اِن دنوں وہ بہادر مجاہدین اور آبنائے ہرمز کے محافظوں سے کھائی ہوئی دردناک ضربوں کی وجہ سے بحیرۂ عرب سے آگے آنے کی جرات نہیں کرتیں اور جب بھی دشمن نے یہ خطرہ مول لیا ہے، خود کو نقصان پہنچایا ہے؛ اور بہت جلد ہی  بحیرۂ عرب بھی خود کو اُن سے خالی کرا لے گا۔

ہمارے ہم وطنوں نے ملک بھر میں چوراہوں اور گلیوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پرجوش موجودگی سے مزیّن کیا ہے

ایسے دن بھی تھے جب استعماری تسلط پسندوں نے نفسیاتی کارروائی اور دہشت کا ماحول بنا کر دارالحکومت کی گلیوں کو خالی کرا دیا اور اس قوم کی حریت پسندی کے خلاف ایک بغاوت برپا کروا دی ی اور اس کے بعد 25 سال تک اس ملک کی دولت لوٹی؛ لیکن اِن دنوں سات مہینوں سے ہمارے ہم وطنوں نے ملک بھر میں چوراہوں، سڑکوں اور گلیوں کو اپنی ذمہ دارانہ اور پرجوش موجودگی سے مزین کیا ہے تاکہ مجاہدینِ اسلام کے مطمئن اور ان کےحوصلے بلند ہوں، اور دشمن خوف اور دہشت کے بھنور میں ڈوب جائے۔

جس طرح کہ تین کروڑ سے زیادہ ایرانیوں نے اپنی "جان فدائی" کا اعلان کیا ـ جو ایک قسم کی نئی ترتیب کے لئے ان کی دوبارہ موجودگی کے اعلان کی بنیاد پر تھا، ـ صرف پہلے 100 منٹ کے دوران، پانچ لاکھ سے زیادہ افراد نے مطلوبہ گنجائش پر کر لی۔

اسی وقت، پورے اسلامی ایران میں ـ جو مختلف اقوام سے تعلق رکھنے والے ایرانیوں کی موجودگی سے مزین ہے، ـ مختلف قسم کی تیاریاں ـ بالخصوص مسلح تیاریاں ـ موجود ہیں تاکہ ایک ایسا میدان بنا دیں جو انہیں نام [عزت و آبرو] عطا کرے، اور ان کے دشمن کو ننگ [ذلت و رسوائی] سے نواز دے۔

ایسے دن بھی تھے کہ جب اس سرزمین کے لوگوں کے دلیری کے جوہر کی شناخت اس کے مردوں سے ہوتی تھی؛ مگر اب ہم آج خواتین بعض میدانوں میں، دلیرانہ موجودگی کے لحاظ سے، مردوں سے سبقت لے جاتی ہیں۔

وہ دن بھی تھے جب دشمن نے نظام کی سماجی پشت پناہی کو مسلسل کمزور کرنے کی کوشش کی تھی، لیکن آج معاشرے کے تمام تر طبقے  آپس کے واضح فرق کے ہوتے ہوئے بھی، اپنے برحق موقف ـ بالخصوص پُر خیر و برکت آبنائے ہرمز ـ کے تحفظ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

وہ ایام، جن کی طرف ہماری واپسی ہمارے دشمن کی دلی آرزو ہے، گذر گئے اور ان کا اعادہ کبھی بھی نہیں ہو گا

پرانے دنوں اور موجودہ دنوں کے درمیان یہ موازنہ مزید پھیلایا اور واضح کیا جا سکتا ہے، لیکن مختصراً، میں عزیز ایرانی عوام کے خادم کے طور پر، اعلان کرتا ہوں کہ وہ پرانے دن جن کی طرف ہماری واپسی، ہمارے دشمن کی دلی آرزو ہے، گذر گئے اور اب انہیں کبھی بھی دہرایا نہیں جا سکے گا۔

ان دنوں خمینیِ کبیر اور خامنہ ایِ عظیم الشّانِ شہید کی جگہ بہت خالی ہے، لیکن۔۔۔

اور البتہ درد اور اندوہ کے ساتھ یاد دلانا چاہئے کہ ان دنوں خمینی کبیر اور خامنہ ایِ عظیم الشّانِ شہید (اعلی اللہ مقامہما الشّریف) کی جگہ بہت خالی ہے، وہی ہستیاں جن کی قیادت کے بدولت ملک کو موجودہ عزت و عظمت حاصل ہوئی ہے۔ لیکن ان کی کارکردگی اور ان کے چکمتے دمکتے راہنما الفاظ کے اس قیمتی خزانے کی برکت سے ـ جو ان کے پیروکاروں کے لئے باقی رہ گیا ہے ـ آنے والے دن، ان دنوں سے کہیں زیادہ شاندار ہوں گے۔

کیونکہ وہ ققنوس جو پہلی مسلط کردہ جنگ کی آگ کے کھلیان سے برآمد ہؤا تھا، آج دشمن کے دباؤ اور بالخصوص دو حالیہ مسلط کردہ جنگوں کی وجہ سے اس قدر بڑا ہو گیا ہے کہ اس کی پرواز کا سایہ دشمن کی سرزمینوں پر بھی پڑ گیا ہے۔

بہت جلد بحیرۂ عرب بھی خود کو دشمن کی موجودگی سے خالی کرا لے گا، رہبر انقلاب

شہید نصراللہ؛ عالم عرب کے بہادر امیر اور محاذ مزاحمت کی عظیم علامت

اس موقع پر بہت مناسب ہے کہ عالم عرب کے بہادر امیر اور محاذ مزاحمت کی عظیم علامت، عالی قدر شہید جناب سید حسن نصراللہ (قَدَّسَ اللہُ نَفسَہُ الزَّکِیَّہ) کی شہادت کی دوسری برسی کی مناسبت سے اُنجناب کو یاد کیا جائے۔ وہ بزرگ انسان جو اپنی قوم اور اپنے مکتب کے سچے خیر خواہ تھے اور ان کے سچے اور شیریں خطبے اور اس کے بہادرانہ اقدامات ان کی قوم نہیں، پوری دنیا کے حریت پسند انسانوں کے دلوں کو مستحکم کرتے تھے۔

بہت جلد بحیرۂ عرب بھی خود کو دشمن کی موجودگی سے خالی کرا لے گا، رہبر انقلاب

نصرت اور فتح ان کے مستقل ساتھی تھے

وہ انسان جنہوں نے لبنان کا نام، ـ جو ایک چھوٹا ملک ہے اور برسوں تک بعض قوتوں کا پِچْھواڑا بنا ہؤا تھا، ـ عظمت کی بلندیوں تک پہنچا دیا۔ وہ شخص جن کے دائمی ساتھی فتح اور نصرت تھے اور وہ انسان جن کے بعد بلاشبہ شامات کی پوری تاریخ میں اب تک، انبیاء اور ان کے اوصیاء کے بعد، اس قدیم خطے میں ان جتنی عظمت کا حامل کوئی شخص نہیں اٹھا۔ اور البتہ اب ان کا فخر آمیز پرچم جناب شیخ نعیم قاسم (حفظہ اللہ) کے ہاتھوں میں ہے جو حزب اللہ کی مستحکم اور عاشورائی صفوں کے پیش پیش بہادری سے ان کا مشن اسی انداز سے، جاری رکھے ہوئے ہیں۔

لبنان کے یہ ایام، تاریخ کے سامنے بلکہ اسی وقت سے، ان کے لئے اور تمام مجاہدینِ مقاومت کے لئے، نمایاں اور فخر آمیز ایام، اور اُن لوگوں کے لئے ذلت آفرین اور بالآخر شرمسار کر دینے والے ایام ہیں جو صہیونی دشمن کے مقابلے میں تسلط پسند [استکباریوں] اور اپنے بدخواہ دشمنوں کے جھوٹے وعدوں کے وفا ہونے کی آس لگائے بیٹھے ہیں۔

بہت جلد بحیرۂ عرب بھی خود کو دشمن کی موجودگی سے خالی کرا لے گا، رہبر انقلاب

جو لوگ سیدِ شہیدِ مقاومت اور سید ہاشم صفی الدین اور مقاومت کے موجودہ مجاہدوں کے برخلاف، ـ جو وقت کے تسلسل میں چمکتے ستاروں کی طرح نور اور روشنی بکھیرتے رہیں گے اور حیرتوں میں [سیدھے] راستے کے متلاشیوں کی رہنمائی کرتے رہیں گے، ـ کے بر عکس کردار ادا کر رہے ہیں، عنقریب اور تاریخ کے صفحات کی پہلے ہی ورق گردانی میں مدفون ہوکر فراموش کر دیئے جائیں گے اور جب بھی مستقبل میں انہیں یاد کیا جائے گا، تو یہ، ان کی بدی، عاقبت نااندیشی [اور کوتاہ اندیشی] ہی نہیں بلکہ شاید غداری اور خیانت کی یاد دہانی ہوگی۔

اختتام پر، مجھے امید ہے کہ الٰہی تفضلات [اور عطاؤں] کے تسلسل اور ہمارے [سید و] سرور (عَجَّلَ اللہُ تعالیٰ فَرَجَہُ الشریف و ارواحنا فداہ) کی خاص دعا کے ساتھ، ایرانی قوم اور مقاومت کے تمام حامی و مددگار صرف اور صرف فتح و نصرت اور عزت سے مستفیض ہو اور ان کے دشمن شکست اور ذلت و خواری کے سوا کسی بھی دوسری چیز سے دوچار نہ ہوں؛ بِمَنِّ اللہِ وَ کَرَمِہِ۔

سید مجتبیٰ حسینی خامنہ ای

مورخہ 6 مہر 1405 ہجری شمسی

مورخہ 28 ستمبر 2026ع‍

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha