اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،اولیانوف نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر لکھا کہ امریکہ 1980 سے ایران کی معیشت کے تباہ ہونے کا انتظار کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ، خلیجی خطے اور پوری دنیا کے لیے بہتر ہوگا کہ واشنگٹن آخرکار ایران کے ساتھ تنازع کے حل کے لیے پُرامن راستوں پر توجہ مرکوز کرے۔
روسی سفارت کار نے واضح کیا کہ اس تنازع کے حل کے لیے مفاہمت کے سوا کوئی دوسرا راستہ کارآمد نہیں ہوگا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اعلان کیا ہے کہ تہران نے ثالثوں کے ذریعے واشنگٹن کو آبنائے ہرمز کھولنے کے لیے سات روزہ منصوبہ پیش کیا ہے۔ عراقچی کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے اس تجویز کو مسترد کیے جانے کے باوجود ایران اب بھی ثالثوں کے ذریعے امریکی حتمی جواب کا منتظر ہے۔
میخائل اولیانوف نے یورپ سے متعلق بھی کہا کہ روسی صدر ولادیمیر پوتن کے اس مؤقف نے کہ روس کا یورپ کے خلاف جنگ کا کوئی منصوبہ نہیں، یورپی جنگی جنون رکھنے والوں کو مایوس کیا ہے۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ پوتن نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ روس نہ یورپ پر حملے کا کوئی منصوبہ رکھتا ہے اور نہ ہی اس کے پاس ایسا کرنے کی کوئی وجہ ہے۔ ان کے بقول، روس کے مخالفین ان بیانات کو مسترد کرنے کے لیے کوئی قابلِ قائل دلیل پیش نہیں کر سکے اور انہیں سمجھ نہیں آ رہا کہ روس کو کس طرح اشتعال دلایا جائے۔
روسی صدر ولادیمیر پوتن نے چند روز قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ماسکو یورپ کے خلاف فوجی کارروائی کی تیاری نہیں کر رہا اور ایسی کارروائی کی کوئی وجہ بھی موجود نہیں۔ انہوں نے روس کی جانب سے یورپی ممالک پر ممکنہ حملے سے متعلق بیانات کو دانستہ طور پر کشیدگی بڑھانے اور اشتعال انگیز اقدام قرار دیا تھا
آپ کا تبصرہ