بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج (23 ستمبر 2026ع) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، ممالک کی خودمختاری، قومی حکمرانی کے احترام اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا۔
دوسری قسط:
کیا ہم بے چینی کا سبب ہیں اس لئے کہ ہم آزاد زندگی کے خواہاں ہیں؟
ہم بے چینی کا سبب نہیں ہیں، ہم آزادی اور خودمختاری کے ساتھ جینے کے خواہاں ہیں اور ہم سر خم نہیں کرتے، تو کیا ہم بے چینی کا سبب ہیں؟
وہ لوگ قتل کرتے ہیں، جرائم کا ارتکاب کرتے ہیں، کیا وہی صلح اور امن کا سبب ہیں حالانکہ کسی بھی بین الاقوامی قانون کا لحاظ نہیں کرتے؟ یہ وہی چیز ہے جس کا ہمیں سامنا ہے۔
ہم کسی سے کچھ نہیں مانگتے۔ ہم اپنا جواب پا چکے ہیں۔ ہمیں طاقت کی ضرورت ہے کیونکہ جو قوم اپنا دفاع نہ کر سکے، اس کو روندا جاتا ہے۔
اس دنیا میں طاقتور لوگ عوام، انسانوں، عدل و انصاف اور جمہوریت کی فکر کے بجائے، تباہی، تخریب اور نابودی کا سبب ہیں اور جس کی کردار کشی کرنا چاہتے ہوں، اس کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔
ایران نے گذشتہ 200 برسوں سے کسی بھی ملک پر حملہ نہیں کیا ہور ہم نے ہمیشہ اپنا دفاع کیا ہے لیکن اب ہم پر الزام لگتا ہے کہ ہم دہشت گرد اور بے چینی کا سبب ہیں۔
ہمیں طاقت چاہئے کہ اپنا دفاع کریں، نہ کہ جارحیت کریں
یہ صورت حال سبب بنی ہے کہ ہم اپنے لئے ایسی حکمت عملی اپنائیں اور وہ یہ کہ ہمیں طاقت چاہئے، کہ اپنا دفاع کریں، نہ یہ جارحیت کا ارتکاب کریں۔ ہم توانائی کو اپنے لئے ترقی دیتے ہیں، ہمیں توانائی بنانے، تباہ کاری پھیلانے اور معاشروں کو ڈرانے دھمکانے کے لئے نہیں چاہتے، ہم عالمی امن میں کردار ادا کرنا چاہتے ہیں۔
ہماری قوم میدان میں حاضر ہے، ہماری قوم گذشتہ سات مہینوں کے دوران ہر شب سڑکوں پر رہے ہیں اس لئے کہ وہ ہمارے ایران کا دفاع کرنا چاہتے ہیں، ہمارے عوام ان عناصر کو ملک میں داخل نہیں ہونے دینا چاہتے جنہیں امریکہ اور اسرائیل نے ہتھیار دیئے تاکہ اگر ہمارے ملک میں بے چینی پھیلائیں۔
سات ماہ تک ایران کے عوام دن رات سڑکوں پر موجود رہے۔ عوام ہی ہماری طاقت کا سرچشمہ ہیں اور ہم عوام کی طاقت کے بل بوتے پر ثابت قدم ہیں۔
ایران کو اتنا طاقتور بننا ہے تاکہ اس کی بقا اور ترقی کو کوئی خطرہ لاحق نہ ہو
ایران کو اتنا طاقتور ہونا چاہئے کہ اس کی بقا اور ترقی کو خطرہ نہ ہو، اتنا ذمہ دار کہ اپنی طاقت کو تسلط قائم کرنے کے لئے استعمال نہ کرے، اور اتنا دور اندیش کہ اپنی سلامتی کو پڑوسیوں کے عدم تحفظ میں تلاش نہ کرے۔"
ہم نے اپنا دفاعی نظام اس طرح سے استوار کیا ہے کہ کوئی یہ تصور بھی نہ کرے کہ ایرانی شہروں پر بمباری کا جواب نہیں دیا جائے گا۔ ایرانی دفاعی نظام کی طاقت دفاع کے لئے ہے؛ تاہم، ہم واضح طور پر کہتے ہیں کہ اپنے ملک کے دفاع کے لئے ہم کسی سے اجازت نہیں لیتے۔
جوہری پروگرام
ہم اپنی ترقی کے لئے [جوہری] توانائی کے حصول کے خواہاں ہیں۔ برسوں سے، "سینٹری فیوجز، افزودگی، پابندیاں اور بم"، ایران کے پرامن جوہری پروگرام پر ہونے والی بحث کا محور رہے ہیں؛ لیکن ہماری قوم کے لئے جوہری ٹیکنالوجی، ترقی کے حق ایک حصہ ہے۔" [ترقی ہماری قوم کا حق ہے اور ترقی کے لئے جوہری توانائی کی ضرورت ہے]۔
جوہری توانائی ہمارے مریضوں کے لئے طبی علاج، ہماری زراعت کے لئے غذائی تحفظ، ہماری صنعت کے لئے ٹیکنالوجی، اور ہمارے مستقبل کے لئے پائیدار بجلی کا ذریعہ ہے۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ