24 ستمبر 2026 - 09:06
اقوام متحدہ میں صدر پزشکیان کی تقریر (1): ہم دہشت گرد نہیں بلکہ دہشت گردی کا شکار ہیں

اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایرانی قوم کے خلاف امریکہ کے وہمی صدر کے الزامات پر تنقید کرتے ہوئے کہا: ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ ہم جنگ سے نہیں ڈرتے، اور ہم جان دینے تک ایران کے دفاع  کے لئے تیار ہیں۔ / امریکہ اور اسرائیل نے جدیدترین ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کیا۔/ - ہم دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ دہشت گردی کا شکار ہیں / امریکہ اور اسرائیل نے جدیدترین ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کیا.

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر مسعود پزشکیان آج (23 ستمبر 2026ع‍) کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں اجلاس کے موقع پر، ممالک کی خودمختاری، قومی حکمرانی کے احترام اور قیام امن کی ضرورت پر زور دیا۔

صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیا نے امریکی-صہیونی جارحیت کے نتیجے میں شہداء کی تصاویر اٹھا دین اور ملت ایران کے خلاف توہم زدہ ٹرمپ کی ہرزہ سرائیوں کا جواب دیتے ہوئے کہا:

- ہم دہشت گرد نہیں ہیں، بلکہ دہشت گردی کا شکار ہیں

میں ایران سے آ رہا ہوں، جہاں دشمنوں نے کسی قانونی جواز کے بغیر، ہمارے رہبر کو قتل کر دیا۔ میں ایران سے آ رہا ہوں کہ جہاں ایک اسکول پر بمباری کی گئی اور ان بچوں کو قتل کر دیا جن کی تصویریں آپ دیکھ رہے ہیں ان ہتھیاروں سے جو امریکہ اور اسرائیل کے پاس ہیں۔ ان بچوں نے کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا تھا۔

- لامرد ایران کا چھوٹا شہر ہے جس کے اسپورٹس کمپلیکس کو ایسے کلسٹر بموں کا نشانہ بنایا جو ہزاروں ٹکڑوں میں بٹ جاتے ہیں۔ انہوں نے ہمارے بے گناہ سائنسدانوں، عوام، خواتین اور بچوں کو جرم و گناہ کے بغیر قتل کر دیا۔

جو لوگ دہشت گرد ہیں اور دہشت گردوں کو تربیت دیتے ہیں، وہ ہم سے کہتے ہیں کہ "تم دہشت گرد ہو۔"

ہم صرف اپنا دفاع کرتے ہیں، دہشت گرد نہیں ہیں، ہمارے عوام درحقیقت بزدلانہ حملوں کا شکار ہیں جو دشمنوں نے ہمارے ملک پر مسلط کئے اور ہم نے پوری طاقت سے دفاع کیا۔

امریکہ اور اسرائیل نے جدیدترین ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کیا

امریکہ اور اسرائیل نے جدیدترین ٹیکنالوجی اور ہتھیاروں سے ہم پر حملہ کیا اور ہمارے عوام پوری قوت سے، ڈٹ گئے، انہوں نے حملہ کیا لیکن ہم نے ان کے سامنے سر خم نہیں کیا اور ہم نے بھی حملہ کیا، لیکن ہم نے عوام کو نہیں مارا۔

وہ دور دراز کی سرزمینوں سے آئے تھے اور ہتھیاروں سے لیس تھے، انہوں نے ہمارے اسکولوں، اسپتالوں، یونیورسٹیوں، پلوں اور بنیادی ڈھانچوں پر حملے کئے اور یہ سب بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے۔

جس نے میں نے [صدارتی] ذمہ داری سنبھالی، انہوں نے پہلے ہی دن اسماعیل ہنیہ کو تہران میں قتل کر دیا۔ اسرائیل جب بھی چاہے کسی بھی ریاست، کسی بھی علاقے پر بمباری کرتا اور قتل و غارت کرتا ہے۔

غزہ میں انہوں نے 80000 سے زائد بے گناہ انسانوں کا قتل عام کیا، کئی لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں، وہ نسل کشی کرتے ہیں، ان ہتھیاروں کے ذریعے جو ان کے پاس ہیں، اور پھر کہتے ہیں کہ دوسروں کو دہشت گرد اور بے چینی کا سبب قرار دیتے ہیں۔ حالانکہ وہ خود ان اقدامات کی رو سے، بے چینی اور عدم استحکام کا باعث ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha