اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی میڈیا نے منگل کو رپورٹ کیا کہ ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی اور دونوں جانب سے جاری دھمکیوں کے تناظر میں اسرائیلی حکام نے ایران کی جوابی کاروائی کے خوف سے دفاعی تیاریاں تیز کردی ہیں۔ چینل 12 کے مطابق اسرائیلی فوج نے واشنگٹن اور تہران کے درمیان موجودہ صورتحال کو شدید کشیدگی کا مرحلہ قرار دیا ہے۔
اسرائیلی اخبار معاریو کے مطابق سکیورٹی حکام نے ایران اور لبنان کے محاذوں پر غیر یقینی صورتحال کے باعث حملوں کے زیادہ امکان کا جائزہ پیش کیا ہے، جس کے بعد داخلی محاذ پر خصوصی ہنگامی صورتحال کو 6 اکتوبر تک برقرار رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔ یہ تجویز اسرائیلی وزیر جنگ نے کابینہ کو منظوری کے لیے پیش کی۔
دوسری جانب چینل 13 کے مطابق، بنیامین نیتن یاہو نیویارک روانگی سے قبل مختلف محاذوں کی سکیورٹی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اجلاس کرے گا، تاہم اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے موقع پر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ان کی ملاقات فی الحال طے نہیں ہے۔
اسرائیلی عبرانی ویب سائٹ والا نے ایک سکیورٹی عہدیدار کے حوالے سے بتایا کہ فوج اور وزارت خزانہ کے درمیان اختلافات نے انٹرسیپٹر میزائلوں اور دیگر ہتھیاروں کی پیداوار کو متاثر کیا ہے، جس کے باعث اسرائیلی حکام خود کو کمزور محسوس کر رہے ہیں۔
آپ کا تبصرہ