اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ، ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ ایران کو امریکی ایندھن مہنگا ہونے کا ذمہ دار قرار دینا دراصل ایران کے خلاف جارحیت کے نتائج کی ذمہ داری قبول کرنے سے امریکا کی فرار کی کوشش ہے۔
انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ امریکی حکام ایران کو ایندھن کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کا ذمہ دار قرار دے رہے ہیں، شاید ان کا خیال ہے کہ لوگ یہ بھول چکے ہیں کہ فوجی جارحیت کا آغاز کس فریق نے کیا اور اس کے اقدامات نے ایسا بحران پیدا کیا جس سے تجارتی جہازرانی متاثر ہوئی اور آبنائے ہرمز بند ہوگئی۔
بقائی نے مزید کہا کہ اس طرح کی مغالطہ انگیزی کوئی نئی بات نہیں۔ ان کے مطابق 1939 میں ہٹلر نے بھی پولینڈ پر حملے کو دفاعی اقدام قرار دے کر اسی طریقے سے اپنی جارحیت کا جواز پیش کیا تھا۔
ایرانی ترجمان نے سوال اٹھایا کہ جب کسی غیرقانونی جنگ کا آغاز کرنے والے فریق اسی جنگ کے نتائج کی ذمہ داری اس کے متاثرہ فریق پر ڈالیں تو کیا اسے ان کی حکمت عملی کی ذہانت کہا جائے یا ’حماقت کے تسلسل کی ایک اور واضح مثال؟
آپ کا تبصرہ