21 ستمبر 2026 - 07:00
سعودی عرب کاغذی شیر ہے، جسے انصار اللہ نے پھاڑ ڈالا، اسکاٹ رٹر

امریکہ کے سابق انٹیلی جنس افسر، اسکاٹ رٹر کہتے ہیں کہ انصار اللہ شجاعت اور مذہبی یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہوئی ہے جبکہ آل سعود پٹروڈالر سے وابستہ حکومت ہے، جس کو اس وقت یمنی مقاومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔ سعودی عرب ایک کاغذی شیر ہے؛ انصار اللہ کے مقابلے میں اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے؛ اور انصار اللہ کی پیشقدمی سعودی بادشاہت کے زوال کا باعث بن سکتی ہے، اور اس خاندان کا زوال خلیج فارس کی دوسری غیر جمہوری ریاستوں کے زوال پر پر منتج ہو سکتا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکہ کے سابق انٹیلی جنس افسر اور اقوام متحدہ کے سابق انسپکٹر اسکاٹ رٹر  نے کہا ہے کہ انصاراللہ بہادری اور مذہبی یکجہتی کی بنیاد پر قائم ہے، جبکہ آل سعود ایسی طاقت کے سامنے صرف تیل کی فروخت سے حاصل ہونے والے آمدنی پر انحصار کرتا ہے، جو اب یمنی مقاومت کی طرف سے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

اسکاٹ رٹر سعودی حکومت کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہیں اور انصار اللہ کے عزم کے سامنے اس کی کامیابی کا کوئی امکان نہیں ہے۔

رٹر کے مطابق، سعودی عرب نے امریکہ اور مغربی ممالک سے ایک ٹریلین ڈالر سے زیادہ جدید فوجی سازوسامان اور ٹیکنالوجی حاصل کی، لیکن میدان جنگ میں عملاً ایک "کاغذی شیر" بن گیا؛ جدید لڑاکا طیارے، ہیلی کاپٹر، ٹینک اور توپ خانہ اسی وقت معنی رکھتے ہیں جب انسانی قوت انہیں مؤثر طریقے سے استعمال کر سکے، جبکہ سعودی عرب نے ایسی جنگی صلاحیت اور عملی مہارت نہیں دکھائی۔ اس کے برعکس، انصاراللہ کی افواج قبائلی قوتوں اور زیادہ تر ہلکے ہتھیاروں کی مدد سے بہادری، یکجہتی اور نمایاں جنگی صلاحیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے سعودی عرب کی جدید فوج کے خلاف مؤثر کارروائیاں کرنے میں کامیاب رہیں۔

رٹر کے مطابق، انصاراللہ کی کامیابیاں سعودی عرب اور خطے کے لئے تزویراتی اور حتیٰ وجودی نتائج کی حامل ہیں۔

ان کا ماننا ہے کہ انصاراللہ تحریک باب المندب کے کنٹرول کو مستحکم کر کے اور زمینی کارروائیوں کو میزائل اور ڈرون حملوں کے ساتھ ملا کر سعودی عرب کی برآمدات اور تیل کی آمدنی کو متاثر کر سکتی ہے، جو سعودی حکومت کی معاشی اور سیاسی طاقت کی بنیاد ہے؛ اور اس بحران سے سعودی معاشرے کے اندرونی دراڑیں بھی فعال ہو سکتی ہیں، کیونکہ سعودی عرب کا قبائلی ڈھانچہ بدستور قائم ہے۔

ریٹر کہتے ہیں کہ محمد بن سلمان کی طاقت اور حیثیت کا انحصار تیل کی دولت کے ذریعے سعودی قبائل اور طاقتور خاندانوں کی وفاداری برقرار رکھنے پر ہے۔ جب تک تیل کی آمدنی حکومت کے پاس ہے، وفاداری خریدی جا سکتی ہے، لیکن اگر جنگ اور انصاراللہ کے حملے تیل کی پیداوار اور برآمدات کو متاثر کریں تو یہ نظام بھی نقصان اٹھائے گا۔

رٹر نے کہا: امریکہ اور اسرائیل کی ایران کے خلاف جنگ، ایران کی فیصلہ کن فتح پر ختم ہوئی ہے اور واشنگٹن مجبور ہے کہ اس نئی حقیقت تسلیم کو کرے۔

رٹر کہتے ہیں: ایران نے اپنی پوزیشن اس طرح مستحکم کر لی ہے کہ اب خطے کے بعض انتظامات، خاص طور پر آبنائے ہرمز اور توانائی کی سلامتی سے متعلق معاملات میں، اس کا کردار زیادہ فیصلہ کن ہے۔

رٹر یوکرین کی جنگ کے بارے میں کہتے ہیں: یہ شروع سے ہی ایک فرسودہ کرنے والی طویل جنگ تھی جس کی وجہ سے یوکرین کی انسانی اور معاشی صلاحیت شدت سے کمزور ہو گئی ہے۔

ان کے مطابق، یوکرین کو موجودہ صورت حال برقرار رکھنے کے لئے فوجیوں کی ضرورت ہے، جبکہ آبادی میں کمی اور انسانی نقصانات نے اس کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو محدود کر دیا ہے۔

رٹر کا کہنا ہے: روسی حملوں اور جنگ کے تسلسل نے یوکرین کا توانائی، پانی اور دیگر اہم ڈھانچوں پر دباؤ بڑھا دیا ہے، اور یوکرین کی فوجی فتح کے بارے میں مغرب کا بیانیہ میدانی حقائق سے متصادم ہے اور یہ حقیقت تسلسل کے ساتھ، عیاں ہو رہی ہے۔

سعودی عرب کاغذی شیر ہے، جسے انصار اللہ نے پھاڑ ڈالا، اسکاٹ رٹر

رٹر کہتے ہیں: ڈونلڈ ٹرمپ بظاہر جنگ ختم کرنے اور روس کے ساتھ معاشی تعلقات چاہتا ہے؛ لیکن امریکی سیاسی اور سیکیورٹی ڈھانچے میں کچھ قوتیں اس رویے کی مخالفت کرتی ہیں۔

ان کے مطابق، مغربی پابندیوں نے اپنے ابتدائی مقصد کے برعکس، روس کو مغربی معیشت اور سرمایہ کاری پر انحصار کم کرنے کی طرف دھکیلا ہے، اور روس نے اپنی معیشت کو زیادہ تر اندرونی اور مقاممی صلاحیتوں اور غیر مغربی شراکت داروں پر مرکوز کر دیا ہے۔

ان کے خیال میں، مغربی دباؤ اور پابندیوں کی پالیسی نے روس کو معاشی طور پر الگ تھلگ نہیں کیا، بلکہ اس کی معاشی آزادی کو تقویت دی ہے اور اس کی جنگ جاری رکھنے کی صلاحیت کو مضبوط کر دیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha