اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، شیخ سلامہ عبدالقوی نے عالمی مجمع قادمون کے زیر اہتمام منعقدہ پہلی بین الاقوامی کانفرنس ’’بعثت امت محمد‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے امتِ مسلمہ کے اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔
انہوں نے سورۂ فاتحہ اور دعا ’’اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ‘‘ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ امتِ رسول اکرمؐ اس وقت بھٹک گئی جب اس میں تفرقہ اور اختلاف پیدا ہوا، جس کے نتیجے میں امت کی کمزوری سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دشمن اس پر مسلط ہوگئے۔
عبدالقوی نے آیتِ کریمہ ’’وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّقُوا‘‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ امتِ مسلمہ کی طاقت اتحاد سے وابستہ ہے اور جب امت میں تفرقہ پیدا ہوتا ہے تو دشمنوں کی مداخلت اور غلبے کی راہ ہموار ہوجاتی ہے۔
محراب الازہر ادارے کے سربراہ نے کہا کہ امتِ مسلمہ کو کسی نئے نبی یا نئے قرآن کی ضرورت نہیں، بلکہ آج امت کو کتابِ خدا، سنتِ رسول اللہؐ اور پیغمبر اکرمؐ کے طریقۂ کار کی طرف دوبارہ رجوع کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے صدرِ اسلام میں اوس اور خزرج کے درمیان پیدا ہونے والے اختلاف اور اس پر رسول اکرمؐ کے ردعمل کا ذکر کرتے ہوئے قومی اور جاہلی تعصبات کو ترک کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اسلام نے مختلف قوموں اور قبائل کے درمیان اتحاد قائم کیا، لیکن دشمنوں نے جغرافیائی، قومی اور نسلی سرحدیں قائم کرکے مسلمانوں کے درمیان اختلافات کو ہوا دی۔
عبدالقوی نے ’’اندرونی دشمن‘‘ کو امتِ مسلمہ کو درپیش اہم چیلنجز میں سے ایک قرار دیتے ہوئے کہا کہ بعض اوقات کوئی ظالم حکمران یا ایسا ناآگاہ عالم جو اہل ایمان کے درمیان فتنے کا سبب بنتا ہے، اختلافات کو مزید بڑھانے کا ذریعہ بن جاتا ہے اور نتیجتاً مسلمان ایک دوسرے کے مقابل آجاتے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مسلمانوں کا خون مسلمانوں کے ہاتھوں نہیں بہنا چاہیے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر امتِ مسلمہ دوبارہ اپنا مقام حاصل کرنا چاہتی ہے تو اس کے لیے اتحاد اور باہمی ہم آہنگی کی طرف واپسی کے سوا کوئی راستہ نہیں۔
محراب الازہر ادارے کے سربراہ نے مؤمنین کو ’’ایک جسم‘‘ قرار دینے والی رسول اکرمؐ کی حدیث کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کو محبت، رحمت اور باہمی ہمدردی میں ایک جسم کی مانند ہونا چاہیے اور امت کے کسی بھی حصے کی تکلیف اور مشکلات کو اپنی تکلیف سمجھنا چاہیے۔
عبدالقوی نے مزید امید اور حوصلے پر زور دیتے ہوئے کہا: ’’ہم مایوس اور تسلیم نہیں ہوں گے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ علما کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اتحاد، یکجہتی اور اسلامی مشترکات کے گرد جمع ہونے کی دعوت دیں۔
انہوں نے آخر میں کہا کہ ہر زمانے اور ہر مقام پر علما کا پیغام اتحاد کی دعوت اور حقائق بیان کرنا ہے۔ علما کو چاہیے کہ وہ اللہ کے سوا کسی سے خوفزدہ ہوئے بغیر اپنی ذمہ داری اور رسالت ادا کریں۔
آپ کا تبصرہ