11 ستمبر 2026 - 17:55
یمن میں سعودی حمایت یافتہ طارق صالح کی فورسز کی پسپائی؛ زخمی اہلکاروں کو محاذ پر چھوڑ دیا

یمنی فوجی امور کے ماہر علی النسی نے سعودی عرب سے وابستہ فورس کے کمانڈر طارق صالح پر الزام عائد کیا ہے کہ مغربی ساحل سے پسپائی کے دوران اس کی فورسز اپنے زخمی اہلکاروں کو حیس، الخوخہ اور المخا سے نکالے بغیر چھوڑ گئیں، جبکہ حنیش اور جبل زقر کے جزائر میں موجود اہلکاروں کے لیے بھی کشتیوں کا انتظام نہیں کیا گیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، یمنی فوجی امور کے ماہر علی النسی نے ایکس پر اپنے بیان میں سعودی حمایت یافتہ عناصر کی یمنی مسلح افواج کے سامنے پسپائی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ سعودی عرب سے وابستہ فورسز کے کمانڈر طارق صالح نے مغربی ساحل اور حنیش و جبل زقر کے جزائر سے اپنے زخمی اہلکاروں کو نکالنے کے لیے کوئی اقدام نہیں کیا اور انہیں وہیں چھوڑ دیا۔

علی النسی نے کہا کہ زمین اور اسلحہ کھو دینا قابل فہم ہے، لیکن افسوسناک بات یہ ہے کہ طارق صالح کی فورسز نے پسپائی کے وقت حیس، الخوخہ اور المخا میں موجود اپنے زخمی اہلکاروں کو بھی محفوظ مقامات پر منتقل نہیں کیا۔

انہوں نے مزید کہا کہ حنیش اور جبل زقر کے جزائر میں تعینات اہلکاروں کے لیے بھی کشتیاں نہیں بھیجی گئیں، جس کے نتیجے میں دو بٹالین یمنی مسلح افواج کے ہاتھوں گرفتار ہو گئیں۔

مغربی ساحل سے سعودی حمایت یافتہ فورسز کی پسپائی

سعودی عرب سے وابستہ طارق صالح کی فورسز نے جمعرات کے روز یمنی مسلح افواج کے حملوں اور پیش قدمی کے بعد المخا شہر سمیت مغربی ساحل کے تمام علاقوں سے صوبہ لحج کی جانب پسپائی اختیار کی۔

المیادین کے یمنی نمائندے نے جمعرات کو رپورٹ دی کہ یمنی مسلح افواج نے صوبہ تعز کے مغربی حصے میں واقع ساحلی علاقے المخا کے اہم علاقوں اور فوجی اڈوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق، یمنی مسلح افواج نے خالد کیمپ، جبل النار کیمپ اور مغربی ساحل میں موجود فوجی کمان کے مرکز پر بھی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔

یمنی مسلح افواج نے بحیرہ احمر کے ساحلی صوبہ الحدیدہ کے جنوبی حصے میں الخوخہ اور حیس جبکہ صوبہ تعز میں الوازعیہ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا۔

المیادین کے مطابق، الخوخہ اور حیس کا مجموعی رقبہ ایک ہزار 50 مربع کلومیٹر سے زیادہ ہے۔

سعودی عرب کی فضائی کارروائیاں

دوسری جانب سعودی عرب نے اپنی فوجی حمایت اور سعودی حمایت یافتہ فورسز کو تقویت دینے کے لیے یمن کے متعدد صوبوں پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں مارب، الجوف، تعز اور الحدیدہ کے علاقے شامل ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha