10 اکتوبر 2026 - 18:32
ایران کا دوٹوک اعلان: ہر حملے کا فیصلہ کن جواب دیں گے، اب تحمل دکھانے کی کوئی وجہ نہیں

ایران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے کہا ہے کہ ایران پر کسی بھی ممکنہ فوجی حملے کا بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے ملک مکمل طور پر تیار ہے۔ ان کے مطابق، اس بار ایران جدید اور حیران کن فوجی سازوسامان استعمال کرنے کے ساتھ ذرا بھی تحمل نہیں دکھائے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایران کے ایک اعلیٰ سکیورٹی عہدیدار نے امریکی صدر کی حالیہ دھمکیوں اور خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت پر ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ایران کسی بھی فوجی حملے کا فیصلہ کن جواب دینے کے لیے پوری طرح تیار ہے۔

اس ایرانی عہدیدار نے روسیا الیوم سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ کے متضاد طرزِ عمل کی طویل تاریخ اور اس کے بار بار جھوٹ بولنے کے ریکارڈ کے ساتھ ساتھ موجودہ امریکی حکومت کے ڈھانچے پر صیہونی ریاست کے غیر معمولی اثر و رسوخ کے پیش نظر، ایران کے لیے ضروری ہے کہ وہ ٹرمپ کے ایران پر حملے سے متعلق متضاد بیانات اور امریکی ذرائع ابلاغ کی خبروں سے قطع نظر، ہر قسم کے حملے، حتیٰ کہ انتہائی محدود حملے کا بھی بھرپور اور فیصلہ کن جواب دینے کے لیے سو فیصد تیار رہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران نے اپنی منصوبہ بندی اس بنیاد پر کی ہے کہ اسے دشمن کے ساتھ طویل جنگ کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ اسی بنیاد پر اس نے اپنی دفاعی اور حملہ آور حکمتِ عملی اور جنگی طریقۂ کار مرتب کیے ہیں۔

اس عہدیدار نے واضح کیا کہ اس بار جدید اور حیران کن فوجی سازوسامان کے استعمال کے علاوہ ایران کے پاس ذرا بھی تحمل دکھانے کی کوئی وجہ نہیں ہوگی۔ ایران جنگ کے میدان کو کسی مخصوص جغرافیائی علاقے یا کسی خاص محاذ تک محدود رکھنے کی بھی کوئی ضرورت محسوس نہیں کرتا۔

یہ بیانات ٹرمپ کے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی سے متعلق ریمارکس اور خطے میں امریکی فوج کی نقل و حرکت کے ردعمل میں سامنے آئے ہیں۔

اخبار نیویارک ٹائمز نے بھی امریکی عہدیداروں کے حوالے سے خبر دی ہے کہ امریکی محکمۂ جنگ (پینٹاگون) نے ٹرمپ کی ہدایت پر تقریباً تین روز تک جاری رہنے والی مختصر اور شدید فوجی کارروائی کے لیے منصوبے تیار کر لیے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق، اس کارروائی میں ایران کے ڈرون اور میزائلوں کے ذخائر، توانائی کی تنصیبات اور سپاہِ پاسدارانِ انقلاب اسلامی کے کمان مراکز کو نشانہ بنانے پر توجہ دی جائے گی۔

دوسری جانب، اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی فوج طیارہ بردار بحری جہازوں کا ایک نیا جنگی دستہ اور بحری فوجیوں کی ایک یونٹ مشرقِ وسطیٰ بھیج رہی ہے۔ اس اقدام کے نتیجے میں خطے کے قریب تعینات طیارہ بردار بحری جہازوں کی تعداد تین ہو جائے گی۔ اس کے علاوہ خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر فضائی دفاعی سازوسامان اور مزید گولہ بارود بھی تعینات کیا جائے گا۔

اس اخبار نے باخبر ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ ٹرمپ نے اپنے معاونین کے ساتھ خفیہ بات چیت میں کہا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وسط مدتی انتخابات ختم ہوتے ہی ایران کے اندر اہداف پر بمباری دوبارہ شروع کر دی جائے گی۔

اس جائزے کے مطابق، موجودہ مرحلے پر ٹرمپ کی جانب سے ایران پر حملہ نہ کرنے کا اعلان دراصل ایک عارضی التوا ہے۔ اس کا مقصد اندرونِ ملک سیاسی دباؤ میں اضافے کو روکنا اور انتخابات سے پہلے ایندھن کی قیمتوں میں شدید اضافے کے خدشے پر ووٹروں کی تشویش کم کرنا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha