اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، پاکستان کے محکمہ انسداد دہشت گردی نے پشاور کے نواح میں داعش خراسان کے ارکان کی موجودگی کی اطلاع ملنے کے بعد ایک عمارت کو گھیرے میں لے کر کارروائی کی۔
سکیورٹی فورسز کے مطابق مذکورہ عمارت کابل انگلش لینگویج سینٹر کے قریب واقع تھی۔ کارروائی کے دوران دہشت گردوں نے سکیورٹی اہلکاروں پر فائرنگ شروع کردی، جس کے بعد ہونے والی جھڑپ میں داعش خراسان کے 5 ارکان مارے گئے۔
محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق مارے جانے والوں میں عمران عرف عبداللہ بھی شامل ہے، جو انتہائی مطلوب دہشت گرد تھا اور پشاور سمیت مختلف علاقوں میں متعدد بم دھماکوں اور دہشت گردانہ حملوں کا مرکزی ملزم تھا۔
سکیورٹی ادارے کے مطابق عمران پر دھماکا خیز مواد سے حملوں، خودکش کارروائیوں اور پولیس اہلکاروں و سیاسی شخصیات کے قتل کی منصوبہ بندی اور ان پر عمل درآمد کا الزام تھا۔
امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر حملے کا مرکزی ملزم
محکمہ انسداد دہشت گردی نے بتایا کہ عمران رواں سال 6 فروری کو اسلام آباد کے علاقے ترلائی میں امام بارگاہ خدیجہ الکبریٰ پر ہونے والے خودکش حملے کا مرکزی کردار تھا۔
نماز جمعہ کے دوران ہونے والے اس حملے میں کم از کم 32 افراد شہید اور تقریباً 169 افراد زخمی ہوئے تھے۔
رپورٹ کے مطابق عمران نے باجوڑ سے خودکش جیکٹ حاصل کی تھی اور خودکش حملہ آور کو نوشہرہ سے اسلام آباد منتقل کیا تھا۔ کارروائی میں مارے جانے والے ایک اور دہشت گرد نے بھی حملے کے لیے ہدف کی نشاندہی اور علاقے کی نگرانی میں کردار ادا کیا تھا۔
اسلحہ اور بارودی مواد برآمد
محکمہ انسداد دہشت گردی کے مطابق کارروائی کے دوران سکیورٹی فورسز نے ایک رائفل، 4 پستول، 2 دستی بم، 5 میگزین، ایک دیسی ساختہ بم
آپ کا تبصرہ