10 ستمبر 2026 - 00:01
میزائلوں کی رخصتی موسلادھار بارش میں دعاؤں کے ساتھ

یہ مختلف اور یادگار اجتماع موسلادھار بارش میں منعقد ہؤا، یہ [بارش] خدائے متعال کی آسمانی رحمت تھی اور عوام نے اس بارش کے دوران مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے مجاہدوں کے داغے گئے میزائلوں کو اہداف پر کامیابی سے لگنے کے لئے، رخصت کیا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اہلیان تہران نے 8 ستمبر 2026ع‍ کی رات کا اجتماع، مبعوث عوام کی مجاہدانہ موجودگی کے حوالے سے تہران میں یادگار واقعات میں سے ایک تھا۔

اس یادگار رات کو، مجھے تہران کے علاقے 18ویں زون میں واقع "ولی عصر(عج) ٹاؤن" میں مبعوث عوام کے اجتماع میں تقریر کرنے کی توفیق ملی۔

یہ مختلف اور یادگار اجتماع موسلادھار بارش میں منعقد ہؤا، یہ [بارش] خدائے متعال کی آسمانی رحمت تھی اور عوام نے اس بارش کے دوران مخلصانہ دعاؤں کے ساتھ، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی ایرو اسپیس فورس کے مجاہدوں کے داغے گئے میزائلوں کو رخصت کیا اور یہ میزائل خدا کے فضل و کرم سے ٹھیک ٹھیک نشانوں پر لگے۔

جارح صہیونی-امریکی دشمن کو ـ پورے عزیز ایران میں مبعوث عوام کے ان اجتماعات کے دوران، ـ جو تہران اور کچھ دیگر شہروں میں بارش کے باوجود منعقد ہوئے، ـ اسلامی جمہوریہ کی مسلح افواج کے لازوال کارناموں کے ساتھ، میزائل حملوں کی زد میں آکر اچھی طرح اور ٹھیک ٹھیک سزا ملی اور انہیں ایک بار پھر اچھا خاصا اور ناقابلِ فراموش سبق سکھایا گیا۔

دشمن کو گمان تک نہ تھا کہ خلیج فارس میں چند ایرانی آئل ٹینکروں پر حملے کے بعد، بہت ہی کم وقت میں، اسے دردناک جوابی کاروائی کا سامنا کرنا پڑے گا اور اردن، کویت اور بحرین میں اس کے اڈوں پر میزائل برسائے جائیں گے اور اس کے مختلف کلاسوں کے لڑاکا طیاروں کو بھاری نقصان پہنچے گا۔ دشمن کو ہرگز گمان نہ تھا کہ ان اڈوں کے میزائلوں کے حملے کی زد میں آنے کے ساتھ ہی، ایرانی فورسز اس کی بحریہ کے دو ڈسٹرائرز کو بھی بیلسٹک میزائل مار کر شدید اور ناقابل تلافی نقصان پہنچائیں گی۔

ہاں مگر، اگر وہ جان لیتا کہ وہ کس ملک اور قوم سے لڑ رہا ہے، تو اسی لمحے اس میدانِ جنگ سے بھاگنے کا فیصلہ کر لیتا۔

امریکی اور صہیونی جارحوں کے مقابلے میں یہ محاذ، موحدین اور یکتاپرستوں کا محاذ ہے۔ یہ محاذ اور اس محاذ میں مرد و خواتین، اسلام اور ولایتِ فقیہ کے پرچم تلے، ناقابلِ شکست محاذ تشکیل دے چکے ہیں؛ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ان کی فتح کو ان کی خالص جدوجہد، بے مثال استقامت اور آہنی عزم کے بدولت یقینی بنا دیا ہے۔

میں نے ـ ولی عصر(عج) ٹاؤن میں مبعوث عوام کے اجتماع میں، بارانِ رحمتِ الٰہی کے موقع پر، خدائے متعال کے اس فرمان کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہ: "وَلَنْ يَجْعَلَ اللَّهُ لِلْكَافِرِينَ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ سَبِيلًا؛ (اور اللہ ہرگز کافروں کو مومنوں پر غالب نہیں آنے دیتا۔" (سورہ نساء، آیت 141) ـ کہا کہ ہمیں اس جنگ کے مستقبل کے بارے میں کوئی تشویش نہیں ہے؛ کیونکہ خدائے متعال نے ایران کے مؤمن، انقلابی اور ولایتمدار قوم پر کافروں کے تسلط اور غلبے کا راستہ بند کر دیا ہے۔ ایرانی قوم نے اپنے ایمان کا اعلیٰ معیار پیش کیا ہے، اور ایسی قوم کے پاس اسلامی تہذیب کی تعمیر اور ظہور پُرنُور کے لئے ماحول سازی کے راستے میں بڑی فتوحات حاصل کرنے کی بے شمار اہلیتیں ہیں۔ وہ فتوحات جو اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہیں؛ وہی اللہ، جس کے وعدے ناقابِل تخَلُّف (Inviolable) نہیں ہیں اور اللہ نے جہاد کا حق ادا کرنے والے مؤمنین کو اس انداز سے نصرت کا وعدہ دیا ہے:

"وَمَا النَّصْرُ إِلَّا مِنْ عِنْدِ اللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَكِيمِ؛

اور نہیں ہے امداد مگر اللہ کی طرف سے جو بہت قوت والا ہے، بڑا سوجھ بوجھ والا۔" (سورہ آل عمران، آیت 126)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

بقلم: بریگیڈیئر جنرل ید اللہ جوانی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha