6 ستمبر 2026 - 19:59
اُن شیاطین کا سدّ باب جو مؤمنین کے حلفیہ دشمن ہیں - 2

جنگ میں ـ جنّات ـ کے اثرانداز ہونے یا روزمرہ کے مسائل کے جادو ٹونے اور سحر سے جڑ جانے کے بارے میں عجیب افواہوں نے پریشانی کی لہر دوڑا دی ہے۔ لیکن ایک طاقتور فارمولہ سیکھ کر آپ ان تمام پوشیدہ شُرُور کو نہتا کر سکتے ہیں!

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || گذشتہ دنوں عجیب و غریب افواہوں کا بازار گرم رہا ہے؛ جن میں یہ بھی شامل ہے کہ دشمنوں نے حالیہ جنگوں میں مؤمنین کو نقصان پہنچانے کے لئے شیاطین اور جنّات استعمال کئے ہیں! یہ افواہیں رمالی (Geomancy) اور تعویذ نویسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کے ساتھ مل کر معاشرے میں خوف اور پریشانی پیدا کرتی ہیں۔ قرآن اور احادیث کی نصِّ صریح کے مطابق، شیاطین کا اثر، سحر اور جادو کوئی بے بنیاد بات نہیں ہے. شیاطین نے انسانوں کو گمراہ کرنے اور انہیں ستانے کی قسم اٹھائی ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کبھی اپنے بندوں کو اس جنگ میں نہتا اور بے بس نہیں چھوڑا۔ مؤمن نہ تو ان واقعیتوں کا انکار کرتا ہے اور نہ ہی ان سے خوفزدہ اور مفلوج ہوتا ہے۔ ذہنی توازن اور خاندانی حدود کی حفاظت کا تقاضا ہے کہ ہم اس فضا کو پوری طرح سمجھیں اور روحانی ہتھیاروں سے لیس ہو کر اپنے گرد ایک ناقابلِ تسخیر دیوار بنائیں اور اجازت نہ دیں کہ وہمیات یا شیاطین ہماری زندگی پر قابو پا لیں۔

دوسری اور آخری قسط:

امیر المؤمنین (علیہ السلام) نے فرمایا:

"الْبَيْتُ الَّذِي يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَيُذْكَرُ اللَّهُ عَزّ وَجَلّ فِيهِ تَكْثُرُ بَرَكَتُهُ وَتَحْضُرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَجْهَرُهُ الشَّيَاطِينُ وَيُضِي‏ءُ لِأَهْلِ السَّمَاءِ كَمَا تُضِي‏ءُ الْكَوَاكِبُ لِأَهْلِ الْأَرْضِ وَإِنَّ الْبَيْتَ الَّذِي لَا يُقْرَأُ فِيهِ الْقُرْآنُ وَلَا يُذْكَرُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلٍ فِيهِ تَقِلُّ بَرَكَتُهُ وَتَجْهَرُهُ الْمَلَائِكَةُ وَتَحْضُرُهُ الشَّيَاطِينُ؛

جس گھر میں قرآن پڑھا جاتا ہے اور اللہ عزّ و جلّ کا ذکر کیا جاتا ہے، اس کی برکتیں بڑھ جاتی ہیں، اور فرشتے اس میں حاضر ہوجاتے ہیں، اور شیاطین اس گھر کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں، اور وہ گھر آسمان والوں کے لئے چمکتا ہے، جس طرح کہ ستارے چمکتے ہیں زمین والوں کے لئے، اور جس گھر میں قرآن نہیں پڑھا جاتا اور اللہ عزّو جلّ کا ذکر نہیں کیا جاتا اس کی برکتیں گھٹ جاتی ہیں اور فرشتے اس کو چھوڑ جاتے ہیں اور شیاطین اس میں حاضر ہو جاتے ہیں۔" (الکلینی، محمد بن یعقوب الرازی، اصول کافی، ج2، ص610)

معوذتین ("سورہ فلق" اور "سورہ ناس") کی پابندی سے تلاوت، روزانہ "آیت الکرسی" کی تلاوت اور "حرز امام جواد (علیہ السلام)" سمیت مستند حرزوں کا استعمال، آپ کی روح اور نفوس اور خاندان کے افراد کے گرد ایک ناقابلِ نفوذ حفاظتی زرہ تیار کرتا ہے۔

جنّی اور انسی شیاطین کو لگام دینا:

ایک راہ کُشا حدیث میں آیا ہے کہ شیاطین کے دو گروہ ہیں: 'جنّی شیاطین' اور 'اِنسی شیاطین'۔

جنّی شیاطین کو دفع کرنے کے لئے کثرت سے "لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِا للَّهِ الْعَلِيِ الْعَظِيمِ" کا ورد کریں۔ یہ مختصر ذکر آپ کے گرد اللہ کی قدرتِ مطلق کی دیوار کھڑی کر دیتا ہے؛

انسی شیاطین (جو ہماری پریشانیوں کا ایک ذریعہ ہیں) کے شرّ کو دفع کرنے کے لئے درود و صلوات پر مداومت سب سے طاقتور ہتھیار ہے۔ صلوات ایسی قبول شدہ دعا ہے جو زندگی میں کشادگی اور اجالا پیدا کرتی ہے۔

شیاطین پر دروازے بند کرنا:

شیاطین ان دروازوں سے داخل ہوتے ہیں جو ہم خود اپنے اعمال کی رو سے ان کے لئے کھول دیتے ہیں! جھوٹ، غیبت، تہمت اور حرام خواری جیسے گناہ شیطان کے لئے دعوت نامے کے مترادف ہیں کہ وہ انسان کے گھر اور زندگی میں داخل ہو جائیں۔ نیز گھر کے اندرونی حصے میں کتے یا حرام مشروبات کی موجودگی رحمت کے فرشتوں کو بھگا دیتا ہے اور ماحول کو شیاطین کے لئے محفوظ بناتا ہے۔ پہچان اور صحیح عمل کے ذریعے شیاطین کے داخلے کے راستے بند کئے جا سکتے ہیں۔

جھوٹے تعویذ نویسوں اور رمالوں کا ہاتھ کاٹنا:

جب زندگی میں پیچیدہ مسائل پیدا ہوں تو سب سے بڑی غلطی جعلی تعویذ نویسوں، فال گیروں اور رمالوں کی طرف رجوع کرنا ہے۔ ان لوگوں کے پاس جانے سے نہ صرف مسئلہ حل نہیں ہوتا، بلکہ نئے شیاطین آپ کی زندگی میں داخل ہو جاتے ہیں اور مسئلہ مزید الجھ جاتا ہے۔ باخبر انسان جانتا ہے کہ ان تمام مشکلات کو حل کرنے کی کلید صرف اللہ کے ہاتھ میں ہے اور وہ خالص توکل اور مستند دعاؤں کے ذریعے خود کو ان دولت اندوز شیادوں کے چنگل سے بچاتا ہے۔

فولادی قلعے میں سانس لینا

اس توازن کا لطف، روحانی آزادی اور توحیدی نگاہ میں پوشیدہ ہے۔ اس حقیقت کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہئے کہ 'شیاطین موجود ہیں اور کچھ واقعات کا باعث بنتے ہیں'؛ لیکن اس موضوع کے ساتھ ساتھ اللہ کی لا محدود قدرت کا ادراک ہمیں انفعالیت اور ان کے آگے سر جھکانے اور خوف و ہراس سے نجات دلاتا ہے۔ جب ہم مضبوط ارادے کے ساتھ ـ غلطیوں میں اپنا حصہ ـ قبول کر لیتے ہیں اور شیاطین کو دفع کرنے کے لئے ذکر، گھریلو ماحول کی صفائی کا سہارا لیتے ہیں، تو گویا ہم نے اپنی زندگی کی مکمل کمانڈ خود سنبھالی ہے۔ اس توازن کے مقام پر پہنچنا، ہمیں ایک محفوظ اور ناقابلِ تسخیر انسان بنا دیتا ہے؛ ایسا شخص جو اللہ کے کلام پر بھروسہ کرتے ہوئے اپنے گھر کو ایک مضبوط قلعہ بنا دیتا ہے جس کے سکون کے ستونوں کو کوئی طوفان اور کوئی جادو ہلا نہیں سکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: تحریر: ہادی سلیمیان

تکمیل و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha