قرآن و حدیث
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ ہجدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: "۔۔۔ اے علی! آپ میرے وصی ہیں، میرے بچوں کے باپ ہیں، میری بیٹی کے شریک حیات ہیں اور میری امت میں میرے جانشین ہیں، میری زندگی میں اور میرے وصال کے بعد۔ آپ کا امر (فرمان) میرا امر ہے اور آپ کی نہی میری نہی ہے۔ اس ذات کی قسم جس نے مجھے نبوت پر مبعوث فرمایا اور مجھے مخلوقات میں بہترین بنایا، آپ اللہ کی حجت ہیں مخلوقات پر، اور اللہ کے امین ہیں اس کے رازوں پر اور اس کے بندوں پر اس کے خلیفہ ہیں۔۔۔"
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ ہفدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
۔۔۔ اللہ تعالی نے مجھے اور تمہیں خلق فرمایا، مجھے اور تمہیں چن لیا، مجھے نبوت کے لئے اور تمہیں امامت کے لئے۔ جو تمہاری امامات کا انکار کرے گا اس نے میری نبوت کا انکار کیا۔۔۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ شانزدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
۔۔۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) نے فرمایا: اے علی! جو تمہیں قتل کرے اس نے مجھے قتل کیا ہے۔ جو تم سے دشمنی کرے اس نے مجھ سے دشمنی کی ہے۔ جو تمہیں برا بھلا کہے اس نے مجھے برا بھلا کہا ہے؛ کیونکہ تم مجھ سے ہو میری جان کی مانند؛ تمہاری روح میری روح ہے اور تمہاری فطرت اور طینت میری طینت و فطرت سے ہے۔۔۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ پانزدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
۔۔۔ رسول اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ) روئے۔ میں نے عرض کیا: آپ رو کیوں رہے ہیں؟ فرمایا: "اے علیؑ! میں اس لئے رو رہا ہوں کہ اس مہینے میں تمہاری حرمت توڑ دی جائے گی۔ گویا میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنے رب کے سامنے حالت نماز میں کھڑے ہو، جب پچھلوں اور اگلوں کا سب سے زیادہ شقی و بدبخت شخص ـ اور قوم ثمود کی اونٹنی (ناقۂ صاح) کی کونچیں کاٹنے والے کا بھائی ـ اٹھے گا اور تمہارے سر پر ضرب لگائے گا اور تمہاری داڑھی تمہارے سر کے خون سے رنگین ہوجائے گی۔" میں نے عرض کیا: یا رسول اللہؐ! کیا اس حالت میں میرا دین محفوظ ہوگا؟ فرمایا: "تمہارا دین محفوظ ہوگا۔"۔۔۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ چہاردہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
حضرت امیرالمؤمنین علی (علیہ السلام) فرماتے ہیں: میں نے کھڑے ہو کر عرض کیا: یا رسول اللہؐ! اس مہینے میں سب سے افضل عمل کیا ہے؟ آپؐ نے فرمایا: اے ابا الحسن! اس مہینے میں افضل عمل 'حرام افعال سے پرہیز' ہے۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ سیزدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
۔۔۔ اے لوگو! جنت کے دروازے اس مہینے میں کھول دیئے گئے ہیں؛ اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ انہیں تم پر بند نہ کرے اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے گئے ہیں، اللہ سے دعا کرو کہ انہیں تم پر کھول نہ دے۔ شیاطین اس مہینے میں زنجیروں میں جکڑے ہوئے ہیں؛ اللہ سے دعا کرو کہ انہیں تم مسلط نہ کر دے۔۔۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
انفوگرافی | خطبہ شعبانیہ حصۂ دوازدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
۔۔۔ جو شخص اس مہینے میں مجھ پر کثرت سے درود بھیجے گا، اللہ اس کے نیک اعمال کا ہلکا پلڑا بھاری کر دے گا اور جو شخص اس مہینے میں قرآن کی ایک آیت کی تلاوت کرے گا اسے دیگر مہینے میں پورے ختم قرآن کا ثواب ملے گا۔۔۔
-
خطبہ شعبانیہ حصۂ یازدہم؛ ماہ رمضان کی آمد پر رسول اللہ(ص) کا خطبہ
بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || ۔۔۔ جو شخص اس مہینے اپنوں سے قَطعِ رَحِم (قطع تعلق) کرے گا، اللہ قیامت کے دن اسے اپنی رحمت سے محروم کرے گا۔ جس نے اس مہنیے میں نفل نماز پڑھی، اللہ تعالیٰ اس کے لئے جہنم سے آزادی کی سند لکھ دے گا۔ جس نے اس میں ایک فرض نماز ادا کی اسے دوسرے مہینوں میں 70 فرض نمازوں کے برابر ثواب ملے گا۔۔۔
-
-
سیدہ زہرا(س) - حصہ پنجم؛
ویڈیو | ہدایتِ الٰہیہ کے نظام میں سیدہ فاطمہ(س) کی حُجِّنیَّت کا فلسفہ
قرآن اور احادیث کی تعلیمات کے مطابق حضرت زہرا(س) یک تاریخی نمونہ نہیں بلکہ حق و باطل کی تمیز اور راہ ہدایت کی تشخیص کا ایک آسمانی معیار ہیں۔ موجودہ دور میں دین کی حقیقت کو سمجھنے اور الہی مشن کے جاری رہنے کے لئے ان کے مقام کو پہچاننا اور تسلیم کرنا ایک بنیادی ضرورت ہے۔
-
حدیث اہل بیت(ع)؛
ان نکات کو جان کر حدیث کساء پڑھئے
بابا ہمیشہ کی طرح پرسکون، محبت کے ساتھ بیٹی کے گھر کے دروازے پر دستک دیتا ہے، بابا کے بدن کا ٹکڑا بیٹی دروازے پر آتی ہے اور ایک ضعف کے بارے میں سنتی ہے، جو بابا کے جسم پر طاری ہؤا ہے اور ایک یمانی کملی کا تقاضا کرتا ہے اپنی بیٹی سے اور یہیں سے ایک قصے کا آغاز ہوتا ہے، جو زندگی سے مالامال ہے۔
-
ایام فاطمیہ 1447ھ؛
قرآن و حدیث میں حضرت فاطمہ زہراء کی شخصیت
مفسرین کہتے ہیں کہ اس ایت کریمہ میں «ذی القربی» سے مراد حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) ہیں، یعنی مسلمانوں خدا کا حکم ہے کہ وہ حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے حق کو ادا کریں اور چونکہ آیت میں صیغہ امر «وَآتِ» استعمال کیا گیا ہے لذا واجب پر دلالت کرتا ہے، یعنی ہر مسلمان کا اولین فریضۃ ہے کہ نماز، روزہ، حج، زکات کی طرح حضرت فاطمہ زہراء (سلام اللہ علیہا) کے حقوق کو بھی ضرور ادا کرے ۔