اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ایرانی مجلس کی قومی سلامتی و خارجہ پالیسی کمیٹی کے سربراہ ابراہیم عزیزی نے زرین شہر میں ایک عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دشمن نے گزشتہ ایک سال کے دوران ایران کو نقصان پہنچانے کے لیے مختلف منصوبے بنائے، تاہم اس کی غلط حکمت عملی نے اسے ایک اور جنگ میں دھکیل دیا۔
انہوں نے کہا کہ امریکا نے ایران کو کمزور کرنے کے لیے مذاکرات، بحران اور دباؤ کو اپنی تین بنیادی حکمت عملیوں کے طور پر استعمال کیا، لیکن امریکی حکام کا یہ اندازہ غلط ثابت ہوا کہ وہ چند ہی دنوں میں ایران کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کردیں گے۔
عزیزی کے مطابق امریکا نے سمجھا تھا کہ ایران کو تین دن میں شکست دی جاسکتی ہے، لیکن 40 روزہ جنگ کے بعد بھی وہ اپنے مقاصد حاصل نہ کرسکا۔
انہوں نے جنگ کے دوران عام شہریوں کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کی تمام کارروائیوں کے باوجود ایران کو کمزور کرنے اور موجودہ نظام کا تختہ الٹنے کا بنیادی مقصد حاصل نہیں ہوسکا، کیونکہ اسے ایران کی مسلح افواج کی بھرپور مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔
ایرانی رکنِ پارلیمنٹ نے کہا کہ ایرانی عوام اور مسلح افواج کی مزاحمت، شجاعت اور ثابت قدمی نے دشمن کو ایسا سبق دیا جسے وہ ہمیشہ یاد رکھے گا۔ ان کے بقول یہ کامیابی جغرافیائی سیاسی طاقت، میدانِ جنگ اور مسلح افواج کے باہمی امتزاج سے حاصل ہوئی۔
انہوں نے عوام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی ثابت قدمی نے دشمن کے تمام اندازے غلط ثابت کردیے اور دنیا میں امریکا کا رعب ختم کردیا۔
ابراہیم عزیزی نے کہا کہ امریکا اور اس کے اتحادی اپنے کسی بھی بنیادی مقصد میں کامیاب نہیں ہوسکے اور ایران کی جانب سے اپنی دفاعی صلاحیت اور خطرات سے نمٹنے کی صلاحیت کو عملی طور پر ثابت کرنا اس جنگ کی ایک بڑی کامیابی تھی۔
آپ کا تبصرہ